اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 182 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 182

° ه شه وه فهل انتم منتهون ( سورة المائدة آیات ۹۱ - ۹۲) ترجمہ :۔اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! یقیناً مدہوش کرنے والی چیز اور جوا اور بت ( پرستی) اور تیروں سے قسمت آزمائی یہ سب نا پاک شیطانی عمل ہیں۔پس ان سے پوری طرح بچو تا تم کامیاب ہو جاؤ۔یقیناً شیطان چاہتا ہے کہ نشہ اور جوئے کے دوران تمہارے درمیان بغض اور عناد پیدا کر دے اور تمہیں ذکر الہی اور نماز سے باز رکھے۔تو کیا تم باز آ جانے والے ہو۔حضرت رسول کریم ﷺ نے شراب نوشی کو اُمّ الخبائث یعنی تمام برائیوں کی ماں قرار دیا ہے۔شراب اور جوئے کی عادت ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔اس لحاظ سے مختلف خطوں اور علاقوں میں کوئی فرق باقی نہیں رہا۔سیاست کی دنیا میں تو شاید مشرق و مغرب کبھی متحد نہ ہو سکیں لیکن جہاں تک شراب نوشی اور جوا بازی کے رجحانات کا تعلق ہے کیا مشرق اور کیا مغرب اور کیا شمال اور کیا جنوب سب اکٹھے ہو چکے ہیں۔شراب نوشی اور جُوا دونوں ہی معاشرتی برائیاں ہیں۔برطانیہ میں شراب نوشی پر ایک دن میں جتنا خرچ ہوتا ہے اس سے افریقہ کے لاکھوں قحط زدہ لوگوں کا کئی ہفتوں تک پیٹ بھرا جا سکتا ہے۔مگر ستم یہ ہے کہ افریقہ اور دیگر براعظموں کے غریب ترین ممالک میں بھی شراب نوشی کو ایک ایسی عیاشی نہیں سمجھا جاتا جس کے لوگ متحمل نہ ہوسکیں۔افریقہ کے لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو نہ تو زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کر سکتے ہیں اور نہ اپنے بچوں کو تعلیم دلا سکتے ہیں مگر پینے کے لئے کسی نہ کسی طرح شراب ضرور حاصل کر لیتے ہیں۔جنوبی ہندوستان کے پسماندہ علاقوں میں جہاں فیکٹریوں کی تیار شدہ شراب خریدنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں وہاں اس کی 182