اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 183
بجائے خانہ ساز ” ٹوڈی“ سے گزارہ کر لیا جاتا ہے۔اگر چہ غربت اس ام الخبائث کو پھیلنے سے کسی حد تک روکتی ضرور ہے لیکن جونہی فی کس آمدنی بڑھتی ہے شراب پر اٹھنے والے خرچ میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ جب تک کوئی شخص حد سے زیادہ شراب پینے کا عادی نہ ہو جائے اور نشہ میں دھت نالیوں میں گرا پڑا نظر نہ آئے شراب نوشی کی عادت کو برا نہیں سمجھا جاتا۔یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ شراب نوشی اور جوئے کو عصر حاضر کے مسائل کے طور پر کیوں لیا جائے جبکہ یہ دونوں نشے تو ہمیشہ سے ہر جگہ تاریخ انسانی کا حصہ رہے ہیں۔بلاشبہ اس لحاظ سے یہ صرف اس دور کا مسئلہ ہی نہیں ہے بلکہ اسے تاریخ عالم کے ہر دور کا ایک دائمی مسئلہ کہا جانا چاہئے۔اقتصادیات کے نقطہ نگاہ سے شراب نوشی کی نسبت جوا زیادہ قابل اعتراض ٹھہرتا ہے۔جوئے میں اقتصادی لحاظ سے پیداوار میں کسی اضافہ کے بغیر دولت ایک ہاتھ سے نکل کر دوسرے ہاتھ میں چلی جاتی ہے۔یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے سٹے کے کاروبار میں اجناس کے تبادلہ کے بغیر دولت کا دولت سے تبادلہ ہوتا ہے۔جوئے میں سرمایہ اقتصادی ترقی اور دولت کی پیداوار کے عمل میں کسی قسم کا حصہ لئے بغیر ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔منی مارکیٹس (Money Markets) یعنی بازار حصص تو پھر بھی کسی نہ کسی حد تک اقتصادی اغراض و مقاصد کو پورا کرتے ہیں لیکن اقتصادی لحاظ سے جو ایک بالکل بے مقصد عمل ہے جب کہ آزاد تجارت اور صنعتی ماحول میں دولت کا تبادلہ اقتصادیات کو مادی فائدہ پہنچاتا ہے۔قدر (Value) کے تبادلہ میں بالعموم فریقین کو فائدہ ہوتا ہے۔یہ بات نا قابل فہم ہے کہ تاجروں کی اکثریت کو نقصان اٹھانا پڑے۔جب کہ یہ بات بہر حال طے ہے کہ جوئے میں ایک بہت بڑی اکثریت کو اکثر نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔لیکن 183