اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 180 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 180

" ایک کے لئے ممکن ہو گیا ہے۔وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ کے یہ معنی نہیں کہ وہ سب کچھ جو ہم نے انہیں دیا ہے اللہ کے راستہ میں خرچ کرتے ہیں بلکہ اس کے معنی ہیں کہ جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ نے دیا ہے وہ اس میں سے کچھ خرچ کرتے ہیں اور لفظ ” کچھ میں اتنی لچک اور وسعت ہے کہ عام لوگ بھی جو بڑی بڑی قربانیوں کی طاقت نہیں رکھتے وہ کم از کم اپنی حیثیت کے مطابق انفاق فی سبیل اللہ میں حصہ لے سکتے ہیں۔خدمت خلق کا یہ وہ ماحول ہے جس کے قیام اور فروغ کے لئے اسلام کوشش کرتا ہے۔اس ماحول کا تعلق ایک طرف تو فرد کے سماجی رویوں اور اس کے معاشرتی طرز عمل سے ہے اور دوسری طرف اس کا تعلق اس کی اقتصادی و معاشی سرگرمیوں سے ہے۔ایک ایسا معاشی نظام جس میں شامل ہر فرد کو ذاتی ملکیت کا ہی غم کھائے جا رہا ہو اور وہ دونوں ہاتھوں سے سمیٹنے کی تگ و دو میں مصروف ہو وہاں صحیح اور غلط جائز اور ناجائز میں فرق کرنا بڑا مشکل بلکہ عملاً ناممکن ہو جاتا ہے۔غالب امکان ہے کہ ایسا معاشرہ اپنی حدود میں رہنے کی بجائے دوسروں کے حقوق میں ناجائز دخل اندازی کا مرتکب ہو گا۔لیکن دوسری طرف جس معاشرہ کے افراد کو ہمیشہ یہ یاد دلایا جائے اور تربیت بھی دی جائے کہ وہ دوسروں کو ان کے حق سے زیادہ دیا کریں ان سے ہرگز یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ دوسروں کے حقوق غصب کرنا شروع کر دیں گے۔ایسے ماحول میں بھلا کسی کے استحصال کا کیا امکان ہوسکتا ہے۔خدمت خلق خدمت خلق کے اسلامی تصور کو اس آیت میں بڑی خوبصورتی اور جامعیت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ 180