اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 179
نمونے کا کام دیتا رہے گا۔دراصل یہی وہ روح ہے جسے عصر حاضر کے تمام معاشروں میں زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔اگر حکومتیں لوگوں کی فلاح و بہبود کا خیال رکھیں اور ان کی تکالیف اور دکھ درد کا احساس پیدا کریں تو قبل اس کے کہ لوگ اپنی تکالیف اور محرومیوں کے اظہار کے لئے اٹھ کھڑے ہوں ارباب اختیار خود اپنے طور پر ان کے دکھ و درد کا مداوا کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔وہ اصلاح احوال کی کوشش لوگوں کے مطالبات یا کسی خوف کی وجہ سے نہیں کریں گے بلکہ خود ان کے اپنے ضمیر کی آواز انہیں ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی۔خدا کی عطا کردہ سب نعمتوں میں سے خرچ کرنا قرآن کریم نے انفاق فی سبیل اللہ کو صرف مال کے خرچ تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس کے مفہوم کو انتہائی وسیع کر دیا ہے۔ایک بے مثال آیت جسے قرآن کریم نے بار بار دہرایا ہے یہ ہے۔ومما رزقنهم ينفقون ( سورة البقرة آیت ۴) ترجمہ:۔اور جو کچھ ہم انہیں رزق دیتے ہیں وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔اللہ کی عطا کردہ نعمتوں میں ہر قسم کی مادی نعماء کے علاوہ تمام استعدادیں، صلاحیتیں ، خوبیاں اور قومی نیز انسانی تعلقات وغیرہ شامل ہیں۔اس مختصر سے جملہ میں عزت، امن اور آرام وغیرہ جیسی نعمتیں بھی آ جاتی ہیں۔غرضیکہ ہر وہ چیز جو تصور میں آ سکتی ہے وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ میں شامل ہے۔مسن کا لفظ بھی یہاں بڑی خوبصورتی سے استعمال ہوا ہے جس کے لفظی معنی ” بعض اور ” کچھ“ کے ہیں۔اس لفظ کے استعمال سے آیت میں موجود نصیحت پر عمل کرنا ہر 179