اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 178 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 178

بھیس بدل کر گلیوں میں چکر لگایا کرتے تھے۔آپ کو ایک گھر سے بچوں کے رونے کی آواز میں آئیں۔ایسا لگتا تھا کہ بچے کسی تکلیف میں ہیں۔پوچھنے پر پتہ چلا کہ ایک ماں اور اس کے تین چار بچے چولہے کے ارد گرد بیٹھے ہوئے ہیں۔چولہے پر ہنڈیا رکھی ہے جس میں کوئی چیز اُبل رہی ہے۔حضرت عمر نے ماں سے پوچھا کہ کیا بات ہے، بچے کیوں رو رہے ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ بچے بھوکے ہیں اور میرے پاس انہیں کھلانے کے لئے کچھ نہیں۔میں نے انہیں بہلانے کی خاطر ہنڈیا میں کچھ پانی اور پتھر ڈال کر چولہے پر رکھا ہوا ہے تا کہ وہ یہ سمجھیں کہ کھانا تیار ہو رہا ہے۔یہ سن کر حضرت عمرؓ بڑے کرب اور اضطراب کی حالت میں فوراً واپس دربار خلافت میں تشریف لائے۔آپ نے کچھ آٹا، گوشت اور کھجوریں لیں، انہیں ایک بوری میں رکھا اور قریب کھڑے ہوئے غلام سے کہا کہ اسے میری کمر پر رکھ دو۔غلام نے حیرت سے کہا کہ امیر المومنین! آپ کیوں تکلیف فرماتے ہیں یہ بوجھ مجھے اٹھانے دیں۔حضرت عمر نے فرمایا بے شک آج تو تم میرا بوجھ اٹھا سکتے ہولیکن قیامت کے دن میرا بوجھ کون اٹھائے گا؟ آپ کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ جزا سزا کے دن کوئی اور اس امر کا جوابدہ نہیں ہو گا کہ عمر نے اپنی ذمہ داریوں کو کس طرح ادا کیا تھا اس لئے انہیں اپنا بوجھ خود ہی اٹھانا ہو گا۔یہ دراصل نفس کے لئے ایک قسم کی سزا تھی جو حضرت عمرؓ نے اپنے لئے تجویز فرمائی۔آپ نے محسوس کیا کہ اس غریب اور بے کس عورت اور اس کے بچوں کی جس حالت زار کو دیکھ کر آئے ہیں اس کی ذمہ داری آپ پر عائد ہوتی ہے۔در حقیقت آپ کو شدت سے اس امر کا احساس تھا کہ سارے شہر اور اس کے معاملات کے آخری ذمہ دار آپ ہی ہیں اور یہ ذمہ داری آپ ہی کو ادا کرنی ہے۔اگر چہ ہر سر براہ مملکت کے لئے یہ ناممکن ہے کہ وہ حضرت عمر کی برابری کر سکے لیکن کیا بلحاظ سوچ اور کیا بلحاظ عمل آپ کا مثالی کردار ہمیشہ کے لئے ماڈل اور 178