اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 177
عوام الناس کی فلاح و بہبود کا اس قدر احساس ہو کہ مطالبات منوانے کے لئے کسی قسم کے پریشر گروپس بنانے کی ضرورت ہی نہ رہے۔قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق حکمران اپنی رعایا کے حالات کا ذمہ دار اور خدا کے سامنے جوابدہ ہے۔صلى الله آنحضرت ﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا ہے۔كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ (صحيح ال ح البخارى كتاب النكاح باب المرأه راعية في بيت زوجها) ترجمہ :۔تم میں سے ہر کوئی ایک چرواہے کی مانند ہے۔(وہ بھیڑوں کا مالک تو نہیں لیکن جو بھیڑیں وہ چرا رہا ہے ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اسے دی گئی ہے ) اور تم سب اپنی ذمہ داری کے بارہ میں جوابدہ ہو۔اس حدیث میں ایسے کئی قسم کے تعلقات کا ذکر ہے جن کے باعث ایک انسان کسی دوسرے انسان کا ذمہ دار بن جاتا ہے۔مثال کے طور پر آقا اپنے غلام کا ذمہ دار ہے۔خاوند اور بیوی دونوں اپنے خاندان کے ذمہ دار ہیں۔خاوند خاندان کے سربراہ کے طور پر اور بیوی گھر کا انتظام چلانے کے لحاظ سے۔اسی طرح ایک آجر اپنے اجیر کا ذمہ دار ہے۔على هذا القیاس۔ان سب تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ نے بار بار فرمایا کہ یاد رکھو تم ذمہ دار بنائے گئے ہو اور اپنی اس ذمہ داری کے متعلق جوابدہ ہو۔تاریخ اسلام کا ایک واقعہ ایک رات حضرت عمر مدینہ کی ایک نواحی بستی کی ایک گلی میں سے گزر رہے تھے۔آپ کا یہ معمول تھا کہ براہ راست اپنی رعایا کے حالات معلوم کرنے کے لئے 177