اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 137
دوسرے کو بدی کے ارتکاب سے نہیں روکا۔آپ نے مزید فرمایا۔تم پر لازم ہے کہ نیکی کا حکم دو اور بری باتوں سے لوگوں کو روکو۔اور ظالم کا ہاتھ پکڑ لو اور اسے عدل سے کام لینے پر آمادہ کرو اور اسے حق پر مضبوطی سے قائم کرو ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کو باہم مشابہ کر دے گا اور تم پر ویسے ہی لعنت کرے گا جیسا کہ اس نے ان ( پہلوں ) پر لعنت کی (سنن ابودائود وسنن الترمذی ابواب الفتن ، باب ماجاء في الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر ) آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق کسی قوم کے تنزل کی ایک خطرناک علامت یہ ہے کہ لوگ بدی کے اعلانیہ ارتکاب کے خلاف ناپسندیدگی اور نفرت کے اظہار کی جرات کھو دیتے ہیں۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں ایسے معاشرہ کے افراد کو ایک کشتی کے مسافروں سے تشبیہ دی ہے۔حضرت نعمان بن بشیر بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی مثال جو اللہ تعالیٰ کی حدود کو قائم رکھتا ہے اور جو ان کو توڑتا ہے ان لوگوں کی طرح ہے جنہوں نے ایک کشتی میں جگہ حاصل کرنے کے لئے قرعہ ڈالا۔کچھ لوگوں کو اوپر کا حصہ ملا اور کچھ کو نیچے کی منزل میں جگہ ملی۔جو لوگ نیچے کی منزل میں تھے وہ اوپر والی منزل سے گزر کر پانی لیتے تھے۔پھر انہیں خیال آیا کہ خواہ مخواہ ہم اوپر کی منزل والے لوگوں کو تکلیف دیتے ہیں۔کیوں نہ ہم نیچے کی منزل میں سوراخ کر لیں اور وہاں سے پانی لے لیا کریں۔اب اگر اوپر والے ان کو ایسا احمقانہ فعل کرنے دیں تو سب غرق ہوں گے اور اگر ان کو روک دیں تو سب بیچ جائیں گے۔(صحیح البخاری۔کتاب الشهادات۔باب القرعة في المشكلات ) مجھے ڈر ہے کہ یہ تمثیل بڑی حد تک عصر حاضر کے معاشروں پر صادق آتی ہے۔137