اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 138
اوامر و نواہی بعض دیگر سماجی ذمہ داریوں سے تعلق رکھنے والی آیات مندرجہ ذیل ہیں۔ان پر عمل کے نتیجہ میں معاشرتی امن کو فروغ ملتا ہے۔وَعِبَادَ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجُهَلُونَ قَالُوا سلمان (سورۃ الفرقان آیت ۶۴) ترجمہ۔اور رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو (جوابا) کہتے ہیں سلام۔وَإِذَا حَيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَدُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَورِدُّوهَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا (سورۃ النساء آیت ۸۷) ترجمہ۔اور اگر تمہیں کوئی خیر سگالی کا تحفہ پیش کیا جائے تو اس سے بہتر پیش کیا کر دیا وہی لوٹا دو۔یقیناً اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔وَلَا تُصَعِرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوره وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ، إِنَّ أَنْكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيْر (سورۃ لقمان آیات ۲۰،۱۹) ترجمہ۔اور (نخوت) سے انسانوں کے لئے اپنے گال نہ پھلا اور زمین میں یونہی اکڑتے ہوئے نہ پھر۔اللہ کسی تکبر کرنے والے اور فخر و مباہات کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز کو دھیما رکھ۔یقیناً سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے۔اسلام جو اخلاق اور کردار ایک مسلمان کے اندر پیدا کرنا چاہتا ہے وہ بجائے خود ہر قسم کے غیر ذمہ دارانہ طرز عمل اور جرائم کا سد باب کرتا ہے۔اسلام سماجی ماحول 138