اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 136 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 136

قرآن کریم کے نزدیک معاشرہ کو برائیوں سے پاک کرنے کا بہترین ذریعہ صبر کے ساتھ لوگوں کو وعظ و تلقین کرتے چلے جانا ہے۔فرمایا۔٥٠٥٠٠ وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (سورۃ آل عمران آیت ۱۰۵) ترجمہ۔اور چاہئے کہ تم میں سے ایک جماعت ہو۔وہ بھلائی کی طرف بلاتے رہیں اور نیکی کی تعلیم دیں اور بدیوں سے روکیں۔اور یہی ہیں وہ جو کامیاب ہونے والے ہیں۔مذکورہ بالا آیت سے یہ نتیجہ نہیں نکالنا چاہئے کہ حکومت وقت لوگوں کی اخلاقی صحت کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری سے کلیتہ بری الذمہ ہو جاتی ہے۔ایسا ہرگز نہیں ہے۔بلاشبہ قانون سازی اور قانون کے نفاذ کے اختیارات حکومت کے پاس ہیں۔میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اسلام کے نزدیک صرف حکومتی مشینری جرائم کی حوصلہ شکنی اور ان کی بیخ کنی کرنے کے لئے کافی نہیں ہے۔ایک بار جب گھروں میں اور معاشرہ میں مجرمانہ رجحانات کو بڑھنے اور پھیلنے کی اجازت دے دی جائے اور یہ بیماری جڑ پکڑ جائے تو حکومت زیادہ سے زیادہ یہی کر سکتی ہے کہ گاہے بگا ہے اس بیماری کی بعض سطحی علامات کو دور کر دے۔برائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا حکومتوں کے بس کا روگ نہیں۔قانون کے لمبے ہاتھ بھی برائی کے گہرے بنیادی اسباب تک نہیں پہنچ سکتے۔پس بدی کا استیصال کرنے کی اولین ذمہ داری خاندان کے بزرگوں، مذہبی لیڈروں اور عوامی رہنماؤں پر عائد ہوتی ہے۔قرآن مجید کی مذکورہ بالا آیت اور اسی مضمون کی دیگر بہت سی آیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ تم سے پہلے لوگ بد انجام سے اس لئے دو چار ہوئے کہ انہوں نے نافرمانی اور سرکشی اختیار کی اور ایک 136