اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 118
مفقود ہو جائیں گے اور سفلی جذبات کے وقتی ابال باقی رہ جائیں گے۔جو لوگ زندگی کے ہر شعبہ میں مرد اور عورت کے درمیان مساوات کی بات کرتے ہیں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ جہاں مرد اور عورت خلقی طور پر مختلف ہیں وہاں ان میں مساوات کا سوال ہی بے معنی ہے۔مثلاً بچے پیدا کرنے کا کام صرف عورت ہی کر سکتی ہے۔نو ماہ سے زائد عرصہ تک نسل انسانی کے بیج کو صرف عورت ہی اپنے پیٹ میں رکھ کر اس کی پرورش کر سکتی ہے۔عورت ہی ہے جو شیر خوارگی اور بچپن کے ابتدائی دور میں اپنے بچوں کی دیکھ بھال کا فریضہ سرانجام دے سکتی ہے جبکہ کوئی مرد یہ کام نہیں کر سکتا۔یہ عورتیں ہی ہیں جو انتہائی قریبی خونی رشتہ ہونے کی وجہ سے اپنے بچوں کے ساتھ مردوں کی نسبت کہیں زیادہ گہرا اور مضبوط نفسیاتی تعلق استوار کرتی ہیں۔اگر کوئی معاشرتی اور اقتصادی نظام عورت اور مرد کے درمیان اس خلقی فرق کو مدنظر نہیں رکھتا اور اس فرق کے باعث معاشرہ میں عورت اور مرد کے اپنے اپنے مخصوص کردار کو نظر انداز کرتا ہے تو ایسا نظام ایک صحتمند سماجی اور اقتصادی توازن کے پیدا کرنے میں لازماً نا کام ہو جائے گا۔عورت اور مرد کی جسمانی ساخت میں فرق ہی وہ بنیاد ہے جس کے نتیجہ میں اسلام نے دونوں کے لئے ان کے مناسب حال الگ الگ دائرہ کار مقرر کئے ہیں۔اسلام کے معاشرتی نظام کے مطابق عورت کو خاندان کے لئے روزی کمانے کی ذمہ داری سے جہاں تک ممکن ہے آزاد رکھا جانا چاہئے۔اصولی طور پر یہ ذمہ داری مردوں پر عائد ہوتی ہے لیکن اگر عورتوں کو اپنی گھریلو ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے بعد فراغت ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ انہیں اقتصادی ترقی کے عمل میں حصہ لینے سے روکا جائے۔شرط صرف یہی ہے کہ ان کے اصل فرائض نظر انداز نہ ہوں۔اسلام کی یہی تعلیم ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ عورتیں بالعموم جسمانی ساخت کے لحاظ سے مردوں کی نسبت 118