اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 117
تعدد ازدواج کے مقابل پر ایک ہی متبادل راستہ رہ جاتا ہے جو اتنا مکروہ اور بدصورت ہے کہ اس کے تصور ہی سے رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں۔ایک ایسے معاشرہ میں جس پر مذہب کا گہرا اثر نہ ہو وہاں تو صورت حال اور بھی گھمبیر ہو جاتی ہے۔غیر شادی شدہ عورتوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو آپ کس منہ سے مورد الزام ٹھہرا سکیں گے جب وہ مردوں کو اپنی جانب مائل کرنے کی کوشش کریں گی۔عورتیں بھی آخر انسان ہیں۔ان کے بھی جذبات ہیں۔ان کی بھی خواہشات ہیں جو تشنہ رہ گئی ہیں۔خصوصاً جنگ کے نتیجہ میں ہونے والے گہرے نفسیاتی اور جذباتی صدمات کی وجہ سے کسی شریک حیات کے سہارے کی ضرورت تو اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ان حالات میں شادی سے ملنے والے گھر اور تحفظ کے بغیر زندگی بالکل ویران ہو کر رہ جاتی ہے۔زندگی کا کوئی ساتھی نہ ہو اور نہ ہی اولاد کی کوئی توقع ہو تو ایسے لوگوں کا مستقبل بھی ان کے حال کی طرح ایک تاریک خلا بن کر رہ جاتا ہے۔اگر تنہائی کی ماری ہوئی ایسی عورتیں کسی قدر قربانی کر کے اور کچھ لو کچھ دو“ کے اصول پر چلتے ہوئے جائز اور قانونی طور پر گھر نہیں بسا سکتیں اور معاشرتی نظام کا حصہ نہیں بن سکتیں تو یہ صورت حال بھی معاشرہ کے امن کے لئے بے حد تباہ کن ثابت ہوگی۔ایسی عورتیں کسی نہ کسی طریقہ سے شادی شدہ عورتوں کے خاوندوں کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کریں گی اور اس کا نتیجہ لازماً بہت برا ہوگا۔شادی شدہ عورتوں کا اپنے خاوندوں پر سے اعتبار اٹھ جائے گا۔شکوک وشبہات جنم لیں گے۔میاں اور بیوی کے باہمی اعتماد میں کمی سے کئی گھروں کی بنیادیں متزلزل ہو جائیں گی۔بے وفا مرد جب ایک احساس جرم کے ساتھ زندگی گزاریں گے تو اس سے مزید نفسیاتی پیچیدگیاں پیدا ہونگی اور جرائم کا رجحان بڑھے گا۔سب سے بڑھ کر یہ کہ محبت اور وفا کے آبگینے چکنا چور ہو جائیں گے۔پیار کی رعنائیاں مٹ جائیں گی۔سچے جذبے 117