اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 119 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 119

کمزور ہوتی ہیں۔اللہ تعالی نے حیرت انگیز طور پر عورتوں کو بعض لحاظ سے بہت مضبوط قومی بھی عطا فرمائے ہیں۔اس کی وجہ بنیادی طور پر یہ ہے کہ انکے خلیوں میں نصف کروموسوم زائد ہوتا ہے۔یہی وہ نصف کروموسوم ہے جو کہ مردوں اور عورتوں کے درمیان پائے جانے والے فرق کا ذمہ دار ہے۔اور یہ انہیں اسی لئے دیا گیا ہے کہ وہ اس عظیم ذمہ داری کو اٹھا سکیں جو حمل، زچگی اور ایام رضاعت میں انہیں ادا کرنی ہوتی ہے۔اس صلاحیت کے باوجود عورت بظاہر جسمانی لحاظ سے مضبوط اور سخت جان نہیں ہوتی۔پس مساوات کے نام پر یا کسی اور بہانہ سے عورتوں پر معیشت کے وہ کام مسلط نہیں کرنے چاہئیں جن میں مردانہ جفاکشی اور مشقت کی ضرورت ہوتی ہے۔عورت کی نزاکت اس امر کی بھی متقاضی ہے کہ اس کے ساتھ زیادہ نرمی اور رافت کا سلوک روا رکھا جائے۔روزمرہ کی زندگی میں عورتوں کو ہرگز مجبور نہیں کرنا چاہئے کہ وہ مردوں کے برابر بوجھ اٹھا ئیں بلکہ ان کا بوجھ مردوں کی نسبت ہلکا ہونا چاہئے۔مذکورہ بالا بحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر خانہ داری کی مخصوص ذمہ داری عورت یا مرد میں سے کسی ایک کے سپرد کرنے کا سوال ہو تو یقیناً عورت مرد کے مقابلہ میں اس کی کہیں زیادہ اہل ہے۔مزید برآں فطری طور پر بھی عورت پر بچوں کی نگہداشت کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔یہ ایسی ذمہ داریاں ہیں جن میں مرد محض جزوی طور پر ہی عورت کے ساتھ شریک ہوسکتا ہے۔عورتوں کو یہ حق ملنا چاہئے کہ وہ مردوں کے مقابلہ میں اپنا زیادہ تر وقت گھروں میں گزار سکیں۔لیکن جب انہیں روزی کمانے کی ذمہ داری سے آزاد رکھا جاتا ہے تو انہیں چاہئے کہ وہ لازماً اپنے فارغ وقت کو اپنی اور معاشرہ کی فلاح و بہبود کیلئے خرچ کریں۔عورتوں کے متعلق اسلام کی تعلیم یہی ہے۔اسی وجہ سے یہ تصور پیدا ہوتا ہے 119