احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 44
اصطلاح عام تھی جسے احمدیت کی مخالفت میں مجوسی اصطلاح قرار دیا گیا۔علامہ اقبال کے مولوی حضرات اور صوفیاء کے بارے میں نظریات علامہ اقبال کی ان تحریروں کا ایک حصہ ایسا ہے جس کے ذکر سے جماعت احمدیہ کے مخالفین ہمیشہ گریز کرتے ہیں۔اسی تحریر میں علامہ اقبال نے تحریر کیا ہے کہ مولوی اور صوفی عمداً ایسا پراسرار ماحول پیدا کرتے ہیں تا کہ عوام کی جہالت اور تقلید کا ناجائز فائد اُٹھایا جا سکے اور اگر انہیں اختیار ہوتا تو وہ ہندوستان میں ہر مولوی کے لئے لائسنس حاصل کرنا ضروری قرار دیتے۔اور ا تا ترک نے جو معاشرے سے مولوی کو نکال باہر کیا ہے اگر ابن تیمیہ اور شاہ ولی اللہ سے دیکھ لیتے تو بہت خوش ہوتے اور علامہ اقبال نے مشکوۃ کی ایک حدیث کا حوالہ دے کر اس خیال کا اظہار کیا کہ صرف ملک کے امیر یا اس کے مقرر کردہ لوگوں کا حق ہے کہ وہ عوام کو وعظ کریں۔(Traitors of Islam) an analysis of Qadiani issue (by Allama Muhammad Iqbal, compiled by Agha Shorish Kashmiri, 1973 p22,23) مولوی صاحبان علامہ اقبال کی اس تحریر کا ذکر کبھی نہیں کرتے کیونکہ اس سے ان کی مولویت کی صف لپٹ جاتی ہے۔اس لئے انہیں مجبوراً صرف جزوی حوالے پیش کرنے پڑتے ہیں۔علامہ اقبال کی انہی تحریروں میں جنہیں جماعت احمدیہ کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے، بزرگ صوفیاء پر بھی نا مناسب اعتراض ان الفاظ میں کیا گیا تھا اور یہ الفاظ اس عدالتی فیصلہ کے صفحہ 119 پر درج ہیں۔اقبال لکھتے ہیں: "Nor will Islam tolerate any revival of mediaeval mysticism which has already robbed its followers of their healthy instincts 44