احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 45
and given them only obscure thinking in return۔" ترجمہ: نہ ہی اسلام اب درمیانی صدیوں کے تصوف کو برداشت کر سکتا ہے جنہوں نے اس کے پیروکاروں کو صحت مندانہ رحجانات سے محروم کر دیا اور بدلے میں انہیں صرف مبہم خیالات دیئے۔چونکہ جماعت احمدیہ کی طرف سے حضرت ابن عربی کی تحریر کو بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے۔علامہ اقبال نے اس تحریر میں حضرت ابن عربی کے ان خیالات کو Psychologically Unsound یعنی نفسیاتی طور پر غیر صحت مندانہ قرار دے دیا۔کیا کسی وجود کی روحانی اتباع کی ضرورت نہیں؟ ( عدالتی فیصلہ صفحه 115 ) اس تحریر میں صرف صوفیاء جن میں حضرت ابن عربی جیسے بزرگ بھی شامل تھے پر تنقید کرنے پر اکتفا نہیں گئی بلکہ یہ اعلان بھی کیا گیا کہ اب اسلام کو کسی بزرگ کی روحانی راہنمائی کی بھی ضرورت نہیں۔علامہ اقبال تحریر کرتے ہیں : "Islam has already passed into the broad daylight of fresh thought and experience and no saint or prophet can bring it back to the وو و۔۔۔۔۔۔۔fogs of mediaeval mysticism ( عدالتی فیصلہ صفحہ 119 ) ترجمہ: اسلام اب جدید سوچ اور تجربات کی روشن خیالی میں داخل ہو چکا ہے۔اب کوئی بزرگ یا نبی اسے قرون وسطی کے تصوف کی دھند کی طرف واپس نہیں لے جاسکتا۔اگر صرف کسی نبی کی راہنمائی سے انکار کیا جاتا تو یہ سمجھا جا سکتا تھا کہ جماعت احمد یہ 45