احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 43
”حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا قسم ہے اس پروردگار کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ نازل ہو گا تم میں ابن مریم حاکم عادل اور توڑنے والا صلیب کا اور مارے گا خنزیروں کو اور موقوف کر دے گا جزیہ کو اور لوگوں کو کثرت سے مال دے گا یہاں تک کہ کوئی اسے قبول نہ کرے گا۔“ ( صحیح بخاری کتاب الانبیاء، باب نزول عیسی ابن مریم ، جامع ترمذی ابواب الفتن - ماجاء فی نزول عیسیٰ ابن مریم ) ملاحظہ کیجیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی قسم کے ساتھ بیان فرما رہے ہیں که ضرور وہ موعود مسیح آئے گا اور احمدیت کی دشمنی میں مسیح کی آمد کو ایک مجوسی تصور قرار دیا جارہا ہے اور ملاحظہ کریں کہ اسے ”Bastard Expression‘ قرار دیا جارہا ہے۔اور اگر کوئی سمج بحثی سے یہ اصرار کرے کہ اردو میں مسیح موعود“ کی اصطلاح کہاں استعمال ہوتی تھی؟ تو عرض یہ ہے کہ ان الفاظ میں بھی مسلمانوں کی تحریروں میں یہ اصطلاح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد سے قبل بکثرت استعمال ہوتی تھی۔ہم سلسلہ احمدیہ کے مشہور مخالف مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کی تحریر سے ہی ایک مثال پیش کر دیتے ہیں۔مولوی صاحب اشاعۃ السنہ میں ” براہین احمدیہ پر ریویو کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔( یادر ہے کہ اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔) یہ الفاظ ہمارے اس بیان کے مصدق ہیں کہ مؤلف کو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں بلکہ حضرت مسیح سے مشابہت کا ادعا ہے۔سو بھی نہ ظاہری وجسمانی اوصاف میں بلکہ روحانی اور تعلیمی وصف میں۔“ اشاعۃ السنہ جلد 7 نمبر 7 صفحہ 191) اس سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے سے معا قبل بھی یہ 43