احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 39
تحریک چلاتے۔صرف 53 دن میں احرار کی ہمت جواب دے گئی اور انہوں نے باضابطہ طور پر تحریک ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ہزاروں مسلمانوں کو قید بھی کرایا اور نتیجہ صفر۔اندھا کیا چاہے دو آنکھیں“ مہاراجہ نے احرار کو چند دن روٹیاں کھلا کر جی بھر کر فائدہ اُٹھایا۔احرار نے اختلافات کی جو آگ کشمیر کمیٹی میں لگائی تھی اس کے شعلے کشمیر تک پہنچے اور 1933ء میں کشمیر کے مسلمانوں کے دو گروہ بن گئے۔ایک گروہ شیخ عبداللہ صاحب کا گروہ تھا اور دوسرا گروہ مولوی یوسف شاہ صاحب کا تھا۔اس اختلاف نے کشمیر کے مسلمانوں کی مہم کو مزید کمزور کر دیا۔ذیل میں حوالے درج کئے جاتے ہیں۔ہر کوئی ان حقائق کا آزادانہ تجزیہ کرسکتا ہے۔(Iqbal and the politics of Punjab1926-1938, by Khurram Mahmood, published by, National Book Foundation 2010, p 90-112) (Political Islam in Colonial Punjab Majlis-i-Ahrar 1929-1949, by Samina Awan, by Oxford University Press 2010, p 40-55) علامہ اقبال کی تحریروں کا تجزیہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب کے اس فیصلہ میں علامہ اقبال کی جن تحریروں کے طویل حوالے درج کئے گئے ہیں، ہم نے ان تحریروں کا پس منظر پیش کیا ہے اور اب ہم ان تحریروں کا مختصر تجزیہ پیش کریں گے۔اس عدالتی فیصلہ میں ان تحریروں کا آغاز نہیں درج کیا گیا۔اس آغاز سے واضح ہو جا تا تھا کہ علامہ اقبال کی طرف سے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی یہ گزارش کس سے کی جا رہی تھی اور اس کا اصل مخاطب کون تھا؟ علامہ اقبال لکھتے ہیں: I intended to adress an open letter to the British people 39