احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 38
اعلان کر دیا۔یہاں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ اگر احمدی غدار تھے اور تفرقہ ڈال رہے تھے تو آپ کو ان کے تعاون کی ضرورت کیوں تھی ؟ کیا ہندوستان کے کروڑوں مسلمانوں میں آپ جیسے نمایاں لیڈر کو کچھ افراد بھی نہیں مل رہے تھے جو کہ مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لئے آپ سے تعاون کرتے۔2 جولائی 1933 ء کو علامہ اقبال کی صدارت میں ایک نئی آل انڈیا کمیٹی قائم کی گئی اور اس میں کسی احمدی کو شامل نہیں کیا گیا۔اب تو احمدی اس کا حصہ نہیں تھے۔اب تو چاہیے تھا کہ پہلے سے کئی گنا زیادہ کام ہوتا۔ان مخالفین کے نزدیک اگر احمدی غدار تھے اور کشمیریوں کی ا خدمت کرنے کی بجائے اپنے مسلک کی تبلیغ کرتے تھے تو اب تو یہ مسئلہ ختم ہو گیا تھا لیکن نہ اس کمیٹی کو مالی وسائل میسر ہوئے اور نہ کارکنان ملے جو بے لوث کام کرتے اور نہ ہی کوئی کام ہوا۔آخر تنگ آکر علامہ اقبال نے 1934ء میں اپنے آپ کو اس کمیٹی سے علیحدہ کر لیا اور یہ کمیٹی بھی اپنی موت آپ مر گئی۔مجلس احرار کی ہلڑ بازی کا انجام اب ہم یہ جائز ہ لیتے ہیں کہ مجلس احرار نے کیا تیر مارا؟ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے انہیں پیشکش کی تھی کہ وہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی میں شامل ہو جائیں لیکن انہوں نے انکار کر دیا تھا اور کانگرس کے لیڈر مولانا ابوالکلام آزاد کے مشورے سے اپنی علیحدہ تحریک چلائی تھی۔احرار نے ہزاروں مسلمانوں سے گرفتاریاں دلائیں۔اور انہیں جیل میں اذیتوں کا نشانہ بننا پڑا۔سول نافرمانی کی تحریک بھی چلائی۔کچھ روز کی بے فائدہ ہلڑ بازی کے بعد اس تحریک کے پاس نہ کارکنان تھے اور نہ کوئی ان کی سننے کو تیار تھا ، اور نہ حوصلہ تھا کہ استقلال سے کوئی 38