احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 26 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 26

جاتا ہے۔اور اس کے ایک جملہ پر کہ میں مسلمان ہوں اسے رہا کر دیا جاتا ہے۔کیا کوئی تحقیقات کی گئیں؟ یا اس سے اس کے عقائد کی تفصیلات کرید کرید کر اس کے مسلم یا غیر مسلم ہونے کا فیصلہ کیا گیا ؟ یا اسے علماء کے حوالے کیا گیا کہ اس کے ایمان کا فیصلہ کریں؟ ظاہر ہے ایسا نہیں کیا گیا۔سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم تو یہ ہے۔البتہ تاریخ میں ایک اور مثال بھی پائی جاتی ہے۔جب وسیع پیمانہ پر لوگوں کے عقائد کی تحقیقات کی گئی تھیں۔جب علاقہ کے لوگوں سے گواہیاں جمع کی جاتی تھیں کہ فلاں شخص کے عقائد اور اعمال کیا ہیں۔پھر ماہرین اس پر خوب جرح کرتے تھے کہ کیا وہ راسخ العقیدہ ہے کہ نہیں ہے۔اسے گرفتار کر کے اسے اذیت بھی دی جاتی تھی تا کہ اس کے عقائد معلوم کئے جا سکیں لیکن اس عمل کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ایسا Spanish Inquisition میں کیا گیا تھا۔علامہ اقبال کی چند تحریروں کے حوالے۔پس منظر اور حقائق جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب کے اس فیصلہ کے صفحہ 101 سے صفحہ 122 تک جماعت احمدیہ کے خلاف علامہ اقبال کی دو تحریروں یعنی Islam and Ahmadism اور Qadianis and Orthodox Muslims کے تفصیلی اقتباسات کو تبصروں سمیت درج کیا گیا ہے۔چونکہ پاکستان میں علامہ اقبال کی ایک اہمیت ہے، اس طرح ان اقتباسات کو درج کر کے اس عدالتی فیصلہ کا جواز پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس مضمون میں اس حصہ کا اور علامہ اقبال کی ان تحریروں کا تجزیہ پیش کیا جائے گا جن کے حوالے اس فیصلہ میں درج کئے 26