احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 25 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 25

میں اعتراف کر چکے ہیں کہ پاکستان کے ادارے ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہیں۔ان سب باتوں سے بحران پیدا نہیں ہوا ؟ اور فکر ہے تو اس چیز کی کہ احمدیوں کا لباس عمومی طور مسلمانوں جیسا ہے۔زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ہم نے تو جب بھی جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب کی تصویر دیکھی ہے وہ کوٹ پتلون اور ٹائی میں ملبوس نظر آئے ہیں۔اس طرح تو کوئی بھی انگریز ، امریکی یا یوروپی اعتراض کر سکتا ہے کہ انہوں نے ہمارے جیسا لباس کیوں پہنا ہوا ہے؟ لاکھوں مسلمان برطانیہ یورپ اور امریکہ میں آباد ہیں۔کیا وہ پسند کریں گے کہ وہاں کے مقامی باشندے یہ مطالبہ کریں کہ یہ ہمارے جیسا لباس کیوں پہنتے ہیں؟ ان کی علیحدہ پہچان ہونی چاہیے۔ان کا لباس مختلف ہونا چاہیے۔اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کرنے کی خواہش ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ اس حدیث سے ظاہر ہے۔حضرت فرات بن حیان سے روایت ہے کہ وہ فتح مکہ سے قبل مسلمانوں کے دشمن ابوسفیان کے لئے جاسوس کا کام کر رہے تھے۔جب وہ پکڑے گئے اور ان کی سزائے موت کا حکم جاری ہوا تو انہوں نے انصار کے ایک گروہ کے سامنے کہا کہ میں مسلمان ہوں۔انصار نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا۔آپ نے فرمایا کہ بعض ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی قسم کا اعتبار کر کے ہم انہیں ان کی قسم کے حوالے کرتے ہیں۔اور ان میں سے فرات بن حیان بھی ہیں۔اور آپ کو رہا کر دیا گیا۔( مسند احمد بن حنبل۔اردو ترجمہ از محمد ظفر اقبال۔ناشر مکتبہ رحمانیہ جلد 8 ص 309) توجہ فرما ئیں کہ یہ حالت جنگ کا واقعہ ہے۔ایک شخص دشمن کی جاسوسی کرتا ہوا پکڑا 25