احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 314 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 314

ترجمہ: بہت سے لوگ جن کے مذہبی جذبات مشتعل اور مجروح ہوئے تھے اسلام آباد میں جمع ہوئے اور احتجاج کرتے ہوئے فیض آباد کے قریب دھرنا دے دیا۔اس سے دونوں شہروں کی زندگی مفلوج ہوگئی اور گو کہ اس کا اعتراف نہیں کیا جا رہا تھا لیکن یہ واضح تھا کہ حکومت کی مشینری کو روک دیا گیا ہے۔اسی طرح اس فیصلہ کے صفحہ 127 پر پھر یہ لکھا گیا ہے کہ چونکہ حکومت نے احمدیوں کے بارے میں بھر پور قانون سازی نہیں کی تھی ، اس کا یہ نتیجہ نکلا کہ فیض آباد میں دھرنا دیا گیا اور حکومت کی مشینری ناکام ہو کر رہ گئی اور اس کے ساتھ یہ انتباہ بھی درج ہے کہ آئندہ بھی اس طرح حکومت کی مشینری کو مفلوج کیا جاسکتا ہے۔شوکت عزیز صدیقی صاحب کے فیصلہ میں یہ بات زور دے کر لکھی گئی ہے کہ اس تنازعہ کے پیچھے کوئی Hidden Hand یعنی خفیہ ہاتھ کارفرما تھا اور اس خفیہ ہاتھ نے ان قوانین کو تبدیل کر دیا جن کو بنانے کے لئے مسلمانوں نے طویل جدو جہد کی تھی۔(ملاحظہ کریں عدالتی فیصلہ کا صفحہ 9,7) اور ظاہر ہے کہ پوری قوم یہ تو جاننا چاہتی ہے کہ اگر کوئی خفیہ ہاتھ کارفرما تھا تو کون سا خفیہ ہاتھ تھا اور کس کی مدد کے لئے کام کر رہا تھا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے مقدمہ میں دوسرے درخواست گزاروں کے ساتھ تحریک لبیک پاکستان بھی بطور درخواست گزار 2017/3896 پیش ہوئی تھی اور جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ فیض آباد کے مقام پر دھرنا دینے اور فساد کرنے کا کا م کلی طور پر اسی جماعت نے سرنجام دیا تھا۔جب تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان نے فیض آباد کے مقام پر دھرنا دے کر اسلام آباد اور راولپنڈی کے لوگوں کا جینا دو بھر کیا تو پاکستان کی سپریم کورٹ نے اس معاملہ کا suo moto ( از خود نوٹس لیا اور پاکستان کے اعلیٰ حکام اور ایجنسیوں کے عہدیداروں کو 314