احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 313 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 313

عبادت گاہ کے لئے بھی استعمال ہوسکتا ہے۔یہ بات قابل غور ہے کہ 1978ء میں ایک سوال متعلقہ تھا اور 1984ء میں وہی سوال غیر متعلقہ ہو گیا اور قرآن وحدیث پر بنیا د رکھتے ہوئے 1978ء میں یہ فیصلہ تھا کہ کسی بھی مذہب سے وابستہ افرادا گر وہ اللہ کی عبادت کر رہے ہوں اپنی عبادت گاہ کا نام مسجد رکھ سکتے ہیں اور قرآن وحدیث پر ہی بنیاد رکھتے ہوئے 1984ء میں شریعت کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا کہ مسلمانوں کے علاوہ کسی اور کی عبادت گاہ مسجد نہیں کہلا سکتی۔یہ تضاد ہی 1984 ء کے فیصلہ کو غیر منصفانہ اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلہ میں اُٹھائے گئے سوالات جیسا کہ کتاب کے آغاز میں ذکر کیا گیا تھا کہ جب مخالفین جماعت نے نئے انتخابی قوانین کے بارے میں احتجاج کا فیصلہ کیا تو اس احتجاج کا مرکزی نقطہ فیض آباد کے مقام پر دیا جانے والا دھرنا تھا۔یہ انٹر چینج اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان کا اہم راستہ ہے۔اس دھرنے کے ناٹک کے کرتا دھرتا تحریک لبیک پاکستان کے قائدین اور ان کے کارکنان تھے۔برطرف کئے جانے والے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب نے اپنے فیصلہ میں اس دھرنے کا نمایاں ذکر کیا ہے۔چنانچہ وہ اپنے فیصلہ کے صفحہ 6 پر لکھتے ہیں: were Several people whose religious feelings outraged and hurt thronged Islamabad and staged a protest/sit-in near Faizabad which paralyzed life in the twin cities and brought the government machinery۔۔grinding halt, though unadmitted,to an obvious 313