احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 315
طلب کر کے ان واقعات کی تفتیش کی۔اس کا رروائی کی سماعت پاکستان کی سپریم کورٹ کے جسٹس مشیر عالم صاحب اور جسٹس فائز عیسی صاحب کر رہے تھے۔اس مقدمہ کی سماعت 21 نومبر 2017 ء کو شروع کی گئی اور طویل تحقیقات کے بعد 6 فروری 2019 ء کو اس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا۔اس فیصلہ میں لکھا گیا ہے کہ اس دھرنے کے ذریعہ ایسے راستہ کو روک دیا گیا جہاں سے روزانہ لاکھوں گاڑیاں گزرتی ہیں اور اس طرح اسلام آباد اور راولپنڈی کو مفلوج کر دیا۔لوگوں کو ان کے روز مرہ کے کام پر جانے سے روکا گیا، طلباء اپنے کالج اور یو نیورسٹیوں کو نہ جا سکے، وکلاء عدالتوں تک نہ پہنچ سکے ، مریض ہسپتالوں تک نہ پہنچ سکے اور اس وجہ سے اموات بھی ہو ئیں اور اس دھرنا کے کرتا دھرتا نفرت انگیز تقاریر کرنے کے علاوہ دھمکیاں دیتے رہے اور گالی گلوچ کا طوفان برپا کرتے رہے اور اس کے بعد انہوں نے یہ اعلان بھی کر دیا جو اُن کے ساتھ اس فساد میں شامل نہ ہوا اُس پر خدا کا غضب نازل ہوگا۔(فیصلہ سپریم کورٹ صفحہ 1 تا 5 ) جماعت احمدیہ کے جن مخالف مولوی صاحبان نے یہ دھرنا دیا ، وہ گالی گلوچ کے دوران یہ بھی اعلان کرتے رہے کہ وہ نعوذ باللہ یہ سب کچھ اسلام کی حفاظت کے لئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں کر رہے ہیں۔پاکستان کی سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے اس پہلو کے بارے میں لکھا ہے: Islam The Constitution does not permit "the glory of " 118 to be denigrated۔When a mob abuses, threatens and resorts to violence ostensibly in the 315