احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 284 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 284

استعمال نہیں کر سکتے اور اسلامی ریاست کا یہ فرض ہے کہ انہیں ایسا کرنے سے رو کے غلط ثابت ہو جاتا ہے۔کیا ایک مذہب کے لوگ دوسرے مذاہب کے طریق عبادت کو اپنا سکتے ہیں؟ آخر میں اس بنیادی سوال کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ کیا ایک مذہب یا عقیدہ سے وابستہ لوگ دوسرے مذہب یا عقیدہ کے شعائر یا رسومات یا روایات کو اپنا سکتے ہیں کہ نہیں؟ صحیح بخاری میں حضرت براء سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آنے کے بعد بھی سولہ یا سترہ ماہ کے لئے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے اور بیت المقدس یہود کا مقدس مقام اور قبلہ تھا۔پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے حکم کے تحت آپ نے خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنی شروع کی۔(صحیح بخاری۔کتاب الصلوۃ باب قول الله عز وجل واتخذوا من مقام ابراهیم مصلی) یہ تو سب جانتے ہیں کہ اسلام کے ظہور سے بھی بہت پہلے بیت المقدس یہود کا مقدس مقام اور قبلہ چلا آرہا تھا۔کیا اُس وقت یہود اعتراض کر سکتے تھے کہ یہ قبلہ تو ہمارے شعائر میں سے ہے مسلمانوں کو اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ ہمارے قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں؟ کیا یہود اب بھی تاریخ اسلام کے اس دور پر اعتراض کر سکتے ہیں کہ اسلام نے بڑا ظلم کیا جو ہمارے قبلہ کو اور ہمارے شعائر کو استعمال کیا۔اب صحیح بخاری سے ہی دوروایات پیش ہیں : 1۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ یہودی عاشورا کا روزہ رکھتے ہیں۔آپ نے ان سے 284