احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 285
اس کا سبب دریافت فرمایا تو انہوں نے بتایا کہ یہ ایک اچھا دن ہے۔اسی دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دشمن سے نجات دلائی تھی۔اس لئے موسیٰ علیہ السلام نے اس دن روزہ رکھا تھا۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم موسیٰ کے تم سے زیادہ مستحق ہیں۔چنانچہ آپ نے اس دن روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی اس کا حکم دیا۔2۔حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عاشورا کے دن کو یہودی عید اور خوشی کا دن سمجھتے تھے۔اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بھی اس دن روزہ رکھا کرو۔رمضان کی فرضیت کے بعد جس کا جی چاہتا تھا وہ یہ روزہ رکھتا تھا اور جس کا جی چاہتا تھا وہ چھوڑ دیتا تھا۔( صحیح بخاری۔کتاب الصوم۔باب صيام يوم عاشوراء) کیا یہود اس بات پر اعتراض کر سکتے ہیں کہ یہ تو ہمارے شعائر میں سے ہے اور یہ ہمارا روزہ تھا، مسلمانوں نے اس دن روزہ کیوں رکھا؟ اسلام علیحدہ مذہب ہے۔مسلمان ہمارے شعائر کو کیوں اپناتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ انہیں اس اعتراض کا حق نہیں ہے۔حضرت موسیٰ سے محبت دونوں مذاہب میں مشترک ہے اور اسی محبت کی وجہ سے دونوں اس دن کو روزہ رکھ سکتے ہیں لیکن اسی طرح کسی اور مسلک یا عقیدہ سے وابستہ افرادکو یہ حق نہیں کہ اس بات پر پابندی عائد کریں کہ جو ان سے مختلف مسلک سے تعلق رکھتا ہے وہ ان کے طریق عبادت کو یا کسی اور طریق کو اپنا ئیں۔جہاں تک اصطلاحات کا تعلق ہے تو اسلام کے بابرکت ظہور سے دو ہزار سال قبل سے یہود کے لٹریچر میں ”نبی“ کی اصطلاح استعمال ہوتی تھی۔کیا یہود یہ اعتراض کر سکتے ہیں کہ مسلمان یہ اصطلاح استعمال نہیں کر سکتے ، یہ تو ہماری اصطلاح ہے۔یا اگر اسرائیل میں کوئی 285