احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 283
شعائر اسلامی کی اصطلاح اور احادیث شعائر اللہ کے بارے میں کچھ مختصر حقائق پیش کرنے کے بعد شعائر اسلامی کی اصطلاح کا جائزہ لیتے ہیں۔یہ الزام بار بار لگایا جاتا ہے کہ احمدی مسلمان شعائر اسلامی“ استعمال کرتے ہیں اور اس سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔پہلے یہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ قرآن کریم میں کہیں پر بھی شعائر اسلامی کی اصطلاح موجود نہیں ہے۔قرآن کریم کے بعد جائزہ لیتے ہیں کہ احادیث نبویہ میں اس بارے میں کیا راہنمائی پائی جاتی ہے۔احادیث کی کتب میں سب سے اہم اور سب سے زیادہ معتبر احادیث کی وہ چھ کتب ہیں جو’ صحاح ستہ کے نام سے جانی جاتی ہیں۔سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ صحاح ستہ میں شعائر اسلامی کا ذکر کہاں پر آتا ہے۔تو یہ بات یقینا قارئین کے لئے حیران کن ہوگی که صحاح ستہ میں بھی کہیں پر شعائر اسلامی“ کے الفاظ موجود نہیں ہیں۔البتہ تفسیر کی کتاب در منثور میں سورۃ مائدہ آیت 3 کی تفسیر میں یہ روایت درج ہے: ” ابن ابی حاتم ، طبرانی، ابن مردویہ اور حاکم نے (حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ) ابوامامہ سے روایت نقل کی کہ مجھ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی قوم کے پاس بھیجا کہ میں ان کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلاؤں اور ان پر شعائر اسلام کو پیش کروں۔“ اس کے بعد جو اشیاء کھانے کی اجازت نہیں ہے اور حرام قرار دی گئی ہیں ان کا ذکر شروع ہو جاتا ہے۔اس روایت میں بھی اس بات کا کہیں ذکر نہیں کہ اسلامی اصطلاحات کا استعمال غیر مسلموں کے لئے ممنوع ہے۔یا یہ کہ ریاست کا یہ کام ہے کہ غیر مسلموں کو اس بات سے رو کے کہ وہ اسلامی اصطلاحات کا استعمال کریں۔چنانچہ یہ حقائق اس بات کو ثابت کر دیتے ہیں کہ یہ دعویٰ کہ حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ غیر مسلم شعائر اللہ یا شعائر اسلامی“ 283