اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 44
لوگ جو فتنہ کھڑا کرو گے اس سے بڑے فتنہ میں اللہ تعالیٰ تم کو ڈالے گا۔میرے نزدیک تم ہرگز قابل التفات لوگ نہیں ہو جن لوگوں نے خلیفہ کو تمہاری نسبت لکھا انہوں نے غلطی کی۔نہ تم سے کسی نفع کی امید کی جاسکتی ہے نہ نقصان کی۔ان لوگوں نے حضرت معاویہ کی تمام نصائح سن کر کہا کہ ہم تم کو حکم دیتے ہیں کہ تم اپنے عہدہ سے علیحدہ ہو جاؤ۔حضرت معاویہؓ نے جواب دیا کہ اگر خلیفہ اور آئمتہ المسلمین کہیں تو میں آج الگ ہو جاتا ہوں تم لوگ ان معاملات میں دخل دینے والے کون ہو۔میں تم لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اس طریق کو چھوڑ دو اور نیکی اختیار کرو۔اللہ تعالیٰ اپنے کام آپ کرتا ہے۔اگر تمہاری رائے پر کام چلتے تو اسلام کا کام تباہ ہو جاتا۔تم لوگ دراصل دین اسلام سے بیزار ہو۔تمہارے دلوں میں اور ہے اور زبانوں پر اور۔مگر اللہ تعالیٰ تمہارے ارادوں اور مخفی منصوبوں کو ایک دن ظاہر کر کے چھوڑے گا۔غرض دیر تک حضرت معاویہؓ ان کو سمجھاتے رہے اور یہ لوگ اپنی بیہودگی میں بڑھتے گئے۔حتی کہ آخر لا جواب ہو کر حضرت معاویہ پر حملہ کر دیا اور ان کو مارنا چاہا۔حضرت معاویہؓ نے ان کو ڈانٹا اور کہا یہ کوفہ نہیں شام ہے۔اگر شام کے لوگوں کو معلوم ہوا تو جس طرح سعید کے کہنے سے کوفہ کے لوگ چپ کر رہے تھے یہ خاموش نہ رہیں گے بلکہ عوام الناس جوش میں میرے قول کی بھی پرواہ نہیں کریں گے اور تمہاری تکہ بوٹی کر دیں گے۔یہ کہہ کر حضرت معاویہؓ مجلس سے اٹھ گئے اور ان لوگوں کو شام سے واپس کوفہ بھیج دیا۔اور حضرت عثمان کو لکھ دیا کہ یہ لوگ بوجہ اپنی حماقت اور جہالت کے قابل التفات ہی نہیں ہیں۔ان کی طرف توجہ ہی نہیں کرنی چاہئے اور سعید والی کوفہ کو بھی لکھ دیا جاوے کہ ان کی طرف توجہ نہ کرے۔یہ بے دین لوگ ہیں اسلام سے متنفر ہیں۔اہل ذمہ کا مال لوٹنا چاہتے ہیں اور فتنہ ان کی عادت ہے ان لوگوں میں اتنی طاقت نہیں کہ بلا کسی دوسرے کی مدد 44