اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 45

کے خود کوئی نقصان پہنچاسکیں۔حضرت معاویہ کی یہ رائے بالکل درست تھی مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کے علاقہ سے باہر مصر میں چھپی ہوئی ایک روح ہے۔جو ان سب لوگوں سے کام لے رہی ہے اور ان کا جاہل ہونا اور اُجڈ ہونا ہی اس کے کام کے لئے محمد ہے۔وہ لوگ جب دمشق سے نکلے تو انہوں نے کوفہ کا ارادہ ترک کر دیا۔کیونکہ وہاں کے لوگ ان کی شرارتوں سے واقف تھے۔اور ان کو خوف تھا کہ وہاں ان کو نقصان پہنچے گا اور جزیرہ کی طرف چلے گئے۔وہاں کے گورنر عبد الرحمن تھے جو اس مشہور سپہ سالار کے خلف الرشید تھے جو جرات اور دلیری میں تمام دنیا کے لئے ایک روشن مثال قائم کر گیا ہے یعنی خالد بن ولید۔جس وقت ان کو ان لوگوں کی آمد کا حال معلوم ہوا تو انہوں نے فورا ان کو بلوایا اور کہا میں نے تمہارے حالات سنے ہیں۔خدا مجھے نامراد کرے اگر میں تم کو درست نہ کروں۔تم جانتے ہو کہ میں اس شخص کا بیٹا ہوں جس نے فتنہ ارتدادکو دور کیا تھا اور بڑی بڑی مشکلات سے کامیاب نکلا تھا۔میں دیکھوں گا کہ تم جس طرح معاویہ اور سعید سے باتیں کیا کرتے تھے مجھ سے بھی کر سکتے ہو۔سنو! اگر کسی شخص کے سامنے تم نے یہاں کوئی فتنہ کی بات کی تو پھر ایسی سزا دوں گا کہ تم یاد ہی رکھو گے یہ کہہ کر ان کو نظر بند کر دیا اور ہمیشہ اپنے ساتھ رہنے کا حکم دیا۔جب سفر پر جاتے تو ان کو اپنے ساتھ پا پیادہ لے جاتے اور ان سے دریافت کرتے کہ اب تمہارا کیا حال ہے؟ جس کو نیکی درست نہیں کرتی اس کا علاج سزا ہوتی ہے۔تم لوگ اب کیوں نہیں بولتے ؟ وہ لوگ ندامت کا اظہار کرتے اور اپنی شرارت پر تو بہ کرتے۔اسی طرح کچھ مدت گزرنے پر عبد الرحمن بن خالد بن ولید نے خیال کیا کہ 45