اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 43
نے ان کو نصیحت کی اور کہا کہ میں نے سنا ہے کہ تم لوگوں کو قریش نے سے نفرت ہے ایسا نہیں چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے عرب کو قریش کے ذریعہ سے ہی عزت دی ہے۔تمہارے حکام تمہارے لئے ایک ڈھال کے طور پر ہیں۔پس ڈھالوں سے جدا نہ ہو وہ تمہارے لئے تکالیف برداشت کرتے اور تمہاری فکر رکھتے ہیں۔اگر اس امر کی قدر نہ کرو گے تو خدا تعالیٰ تم پر ایسے حکام مقرر کرے گا جو تم پر خوب ظلم کریں گے اور تمہارے صبر کی قدر نہ کریں گے اور تم اس دنیا میں عذاب میں مبتلاء ہو گے۔اور اگلے جہان میں بھی ان ظالم بادشاہوں کے ظلم کی سزا میں شریک ہو گے کیونکہ تم ہی ان کے قیام کے باعث بنو گے۔حضرت معاویہؓ کی اس نصیحت کو سن کر ان میں سے ایک نے جواب دیا کہ قریش کا ذکر چھوڑ و، نہ وہ پہلے تعداد میں ہم سے زیادہ تھے نہ اب ہیں۔اور جس ڈھال کا تم نے ذکر کیا ہے وہ چھنی تو ہم کو ہی ملے گی۔حضرت معاویہؓ نے فرمایا کہ معلوم ہوا تم لوگ بے وقوف بھی ہو۔میں تم کو اسلام کی باتیں سناتا ہوں تم جاہلیت کا زمانہ یاد دلاتے ہو۔سوال قریش کی قلت و کثرت کا نہیں بلکہ اس ذمہ داری کا ہے جو اسلام نے ان پر ڈالی ہے۔قریش بے شک تھوڑے ہیں۔مگر جب خدا تعالیٰ نے دین کے ساتھ ان کو عزت دی ہے اور ہمیشہ سے مکہ مکرمہ کے تعلق کے باعث ان کی حفاظت کرتا چلا آیا ہے تو خدا کے فضل کا کون مقابلہ کر سکتا ہے۔جب وہ کافر تھے تو اس ادنی تعلق کے باعث اس نے ان کی حفاظت کی۔اب وہ مسلمان ہو کر اس کے دین کے قائم کرنے والے ہو گئے ہیں تو کیا خدا تعالیٰ ان کو ضائع کر دے گا ؟ یا درکھو تم لوگ اسلام کے غلبہ کو دیکھ کر ایک رو میں مسلمان ہو گئے تھے اب شیطان تم کو اپنا ہتھیار بنا کر اسلام کو تباہ کرنے کے لئے تم سے کام لے رہا ہے اور دین میں رخنہ ڈالنا چاہتا ہے۔مگر تم 43