اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 40
آپ کی مخالفت میں حصہ لیا جس کی وجوہ میں ابھی بیان کروں گا چوتھے سال میں اس فتنہ نے کسی قدر ہیبت ناک صورت اختیار کر لی اور اس کے بانیوں نے مناسب سمجھا کہ اب على الاعلان اپنے خیالات کا اظہار کیا جاوے اور حکومت کے رُعب کو مٹایا جاوے چنانچہ اس امر میں بھی کوفہ ہی نے ابتداء کی۔جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں ولید بن عتبہ کے بعد سعید بن العاص والی کوفہ مقرر ہوئے تھے۔انہوں نے شروع سے یہ طریق اختیار کر رکھا تھا کہ صرف شرفاء شہر کو اپنے پاس آنے دیتے تھے مگر کبھی کبھی وہ ایسا بھی کرتے کہ عام مجلس کرتے اور ہر طبقہ کے آدمیوں کو اس وقت پاس آنے کی اجازت ہوتی۔ایک دن اسی قسم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت طلحہ کی سخاوت کا ذکر آیا اور کسی نے کہا کہ وہ بہت ہی سخاوت سے کام لیتے ہیں۔اس پر سعید کے منہ سے یہ فقرہ نکل گیا کہ ان کے پاس مال بہت ہے وہ سخاوت کرتے ہیں ہمارے پاس بھی مال ہوتا تو ہم بھی ویسی ہی داد و دہش کرتے۔ایک نوجوان نادانی سے بول پڑا کہ کاش فلاں جا گیر جو اموال شاہی میں سے تھی اور عام مسلمانوں کے فائدہ کے لئے رکھی گئی تھی آپ کے قبضہ میں ہوتی۔اس پر اس فتنہ انگریز جماعت کے بعض آدمی جو اس انتظار میں تھے کہ کوئی موقع نکلے تو ہم اپنے خیالات کا اظہار کریں غصہ کا اظہار کرنے لگے اور ظاہر کرنے لگے کہ یہ بات اس شخص نے سعید والی کوفہ کے اشارہ سے کہی ہے۔اور اس لئے کہی ہے تا کہ ان اموال کو ہضم کرنے کے لئے راستہ تیار کیا جاوے اور اٹھ کر اس شخص کو سعید کے سامنے ہی مارنا شروع کر دیا۔اس کا باپ مدد کے لئے اٹھا تو اسے بھی خوب پیٹا سعید ان کو روکتے رہے مگر انہوں نے ان کی بھی نہ سنی اور مار مار کر دونوں کو بے ہوش کر دیا۔40 40