اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 39
ہو گئے حالانکہ قرآن کریم ان لوگوں کے دوبارہ دنیا میں تشریف لانے سے جو فوت ہو چکے ہیں بڑے زور سے انکار کرتا ہے۔ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے نام کو روشن کرنے کے لئے کسی شخص کو انہی کے اخلاق اور صفات دے کر کھڑا کر دے۔مگر یہ امر تناسخ یا کسی شخص کے دوبارہ واپس آنے کے عقیدہ سے بالکل الگ ہے۔اور ایک بدیہی اور مشہور امر ہے۔علاوہ اس رجعت کے عقیدہ کے عبد اللہ بن سبا نے یہ بھی مشہور کرنا شروع کیا کہ ہزار نبی گزرے ہیں اور ہر ایک نبی کا ایک وصی تھا۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی حضرت علی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء تھے تو حضرت علی خاتم الاوصیاء ہیں۔پھر کہتا اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہو سکتا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی پر حملہ کر کے اس کا حق چھین لے۔غرض علاوہ سیاسی تدابیر کے جو اسلام میں تفرقہ ڈالنے کے لئے اس شخص نے اختیار کر رکھی تھیں۔مذہبی فتنہ بھی بر پا کر رکھا تھا اور مسلمانوں کے عقائد خراب کرنے کی بھی فکر کر رہا تھا مگر یہ احتیاط ضرور برتا تھا کہ لوگ اس کو مسلمان ہی سمجھیں۔ایسی حالت میں تین سال گزر گئے اور یہ مفسد گروہ برابر خفیہ کاروائیاں کرتا رہا اور اپنی جماعت بڑھاتا گیا۔لیکن اس تین سال کے عرصہ میں کوئی خاص واقعہ سوائے اس کے نہیں ہوا کہ محمد بن ابی بکر اور محمد بن ابی حذیفہ دو شخص مدینہ منورہ کے باشندے بھی اس فتنہ میں کسی قدر حصہ لینے لگے محمد بن ابی بکر تو حضرت ابوبکر کا چھوٹا لڑکا تھا جسے سوائے اس خصوصیت کے کہ وہ حضرت ابوبکر کا لڑکا تھادینی طور پر کوئی فضیلت حاصل نہ تھی۔اور محمد بن ابی حذیفہ ایک یتیم تھا جسے حضرت عثمان نے پالا تھا۔مگر بڑا ہو کر اس نے خاص طور پر 39