اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 41

یہ خبر جب لوگوں کو معلوم ہوئی کہ سعید کے سامنے بعض لوگوں نے ایسی شرارت کی ہے تو لوگ ہتھیار بند ہو کر مکان پر جمع ہو گئے۔مگر ان لوگوں نے سعید کی منت و سماجت کی اور ان سے معافی مانگی اور پناہ کے طلب گار ہوئے۔ایک عرب کی فیاضی اور پھر وہ بھی قریش کی ایسے موقع پر کب برداشت کر سکتی تھی کہ دشمن مانگے اور وہ اس سے انکار کر دے۔سعید نے باہر نکل کر لوگوں سے کہہ دیا کہ کچھ لوگ آپس میں لڑ پڑے تھے معاملہ کچھ نہیں اب سب خیر ہے۔لوگ تو اپنے گھروں میں لوٹ گئے اور ان لوگوں نے پھر وہی بے تکلفی شروع کی۔مگر جب سعید کو یقین ہو گیا کہ اب ان لوگوں کے لئے کوئی خطرہ کی بات نہیں ان کو رخصت کر دیا۔اور جن لوگوں کو پیٹا گیا تھا ان سے کہہ دیا کہ چونکہ میں ان لوگوں کو پناہ دے چکا ہوں ان کے قصور کا اعلان نہ کرو اس میں میری سبکی ہوگی۔ہاں یہ تسلی رکھو کہ آئندہ یہ لوگ میری مجلس میں نہ آسکیں گے۔ان مفسدوں کی اصل غرض تو پوری ہو چکی تھی۔یعنی نظم اسلامی میں فساد پیدا کرنا۔اب انہوں نے گھروں میں بیٹھ کر علی الاعلان حضرت عثمان اور سعید کی برائیاں بیان کرنی شروع کر دیں۔لوگوں کو ان کا یہ رویہ بہت برا معلوم ہو ا اور انہوں نے سعید سے شکایت کی کہ یہ اس طرح شرارت کرتے ہیں اور حضرت عثمان کی اور آپ کی برائیاں بیان کرتے ہیں اور امت اسلامیہ کے اتحاد کو توڑنا چاہتے ہیں۔ہم یہ بات برداشت نہیں کر سکتے آپ اس کا انتظام کریں۔انہوں نے کہا کہ آپ لوگ خود تمام واقعات سے حضرت عثمان کو اطلاع دیں۔آپ کے حکم کے ماتحت انتظام کیا جاوے گا۔تمام شرفاء نے حضرت عثمان کو واقعات سے اطلاع دی۔اور آپ نے سعید کو حکم دیا کہ اگر روسائے کوفہ اس امر پر متفق 41