اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 14
قربانی دوسرے لوگوں سے بڑھی ہوئی تھی اور ان کی پرانی خدمات اس پر مستزاد تھیں۔پس وہ ظلماً نہیں بلکہ انصافاً دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ حق دار تھے۔اس لئے دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ بدلہ پاتے تھے۔انہوں نے اپنے حصے خود نہ مقرر کئے تھے بلکہ خدا اور اس کے رسول نے ان کے حصے مقرر کئے تھے۔اگر ان لوگوں کے ساتھ خاص معاملہ نہ کیا جا تا تو وہ پیشگوئیاں کیونکر پوری ہوتیں۔جو قر آن کریم اور احادیث رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں ان لوگوں کی ترقی اور ان کے اقبال اور ان کی رفاہت اور ان کے غناء کی نسبت کی گئی تھیں۔اگر حضرت عمر کسریٰ کی حکومت کے زوال اور اس کے خزانوں کی فتح پر کسری کے کڑے سراقہ بن مالک کو نہ دیتے اور نہ پہناتے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ بات کیونکر پوری ہوتی کہ میں سراقہ کے ہاتھ میں کسری کے کڑے دیکھتا ہوں۔مگر میں یہ بھی کہوں گا کہ صحابہ کو جو کچھ ملتا تھا دوسروں کا حق مار کر نہ ملتا تھا بلکہ ہر ایک شخص جو ذرا بھی حکومت کا کام کرتا تھا اس کو اس کا حق دیا جاتا تھا۔اور خلفاء اس بارے میں نہایت محتاط تھے۔صحابہ کو صرف انکا حق دیا جاتا تھا۔اور وہ انکے کام اور ان کی سابقہ خدمات کے لحاظ سے بے شک دوسروں سے زیادہ ہوتا تھا۔اور پھر ان میں سے ایک حصہ موجودہ جنگوں میں بھی حصہ لیتا تھا اور اس خدمت کے صلہ میں بھی وہ ویسے ہی بدلہ کا مستحق ہوتا جیسے کہ اور لوگ۔مگر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ ان اموال کو جمع کرنے یا ان کو اپنے نفسوں پر خرچ کرنے کے عادی نہ تھے بلکہ وہ اپنا حصہ صرف خدا اور رسول کے کلام کو سچا کرنے کے لئے لیتے تھے ورنہ ان میں سے ہر ایک اپنی سخاوت اور اپنی عطا میں اپنی نظیر آپ تھا اور ان کے اموال صرف غرباء کی کفالت اور ان کی خبر گیری میں صرف ہوتے تھے۔14