اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 13
اپنے عزیز و اقرباء کی صحبت و محبت کو چھوڑ کر اپنے وطنوں کو خیر باد کہہ کر، اپنے خیالات و جذبات کو قربان کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت و محبت کو اختیار کیا تھا اور بعض نے قریباً ایک چوتھائی صدی آپ کی شاگردی اختیار کر کے اسلام کو سبقاً سبقاً پڑھا تھا۔اور اس پر عمل کر کے اسکا عملی پہلو مضبوط کیا تھا۔وہ جانتے تھے کہ اسلام سے کیا مطلب ہے۔اس کی کیا غرض ہے۔اس کی کیا حقیقت ہے۔اس کی تعلیم پر کس طرح عمل کرنا چاہئے۔اور اس پر عمل کر کے کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔پس وہ کسی دنیاوی حکومت کے بادشاہ اور اس کے ارکان نہ تھے۔وہ سب سے آخری دین اور خاتم النبین کی لائی ہوئی شریعت کے معلم تھے۔اور ان پر فرض کیا گیا تھا کہ اپنے عمل سے، اپنے قول سے، اپنی حرکات سے، اپنی سکنات سے اسلام کی ترجمانی کریں اور اس کی تعلیم لوگوں کے دلوں میں نقش کریں اور ان کے جوارح پر اس کو جاری کریں۔وہ استبداد کے حامی نہ تھے بلکہ شریعت غراء کے حامی تھے۔وہ دنیا سے متنفر تھے۔اور اگر ان کا بس ہوتا تو دنیا کو ترک کر کے گوشہ ہائے تنہائی میں جا بیٹھتے اور ذکر خدا سے اپنے دلوں کو راحت پہنچاتے۔مگر وہ اس ذمہ داری سے مجبور تھے جس کا بوجھ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کندھوں پر رکھا تھا۔سلے پس وہ جو کچھ کرتے تھے اپنی خواہش سے نہیں کرتے تھے بلکہ خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اور اس کے رسول کی ہدایات کے مطابق کرتے تھے۔اور ان پر حسد کرنا یا بدگمانی کرنا ایک خطر ناک غلطی تھی۔باقی رہا یہ اعتراض کہ صحابہ کو خاص طور پر اموال کیوں دیئے جاتے تھے یہ بھی ایک وسوسہ تھا۔کیونکہ صحابہ کو جو کچھ ملتا تھا ان کے حقوق کے مطابق ملتا تھا۔وہ دوسرے لوگوں کے حقوق دبا کر نہیں لیتے تھے۔بلکہ ہر ایک شخص خواہ وہ کل کا مسلمان ہوا اپنا حق اسی طرح پاتا تھا جس طرح ایک سابق بالایمان۔ہاں صحابہ کا کام اور ان کی محنت اور 13