اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 15

صحابہ کی نسبت بدگمانی بلا وجہ ہے غرض صحابہ کی نسبت جو بعض لوگوں کو حسد اور بدگمانی پیدا ہوگئی تھی بلا وجہ اور بلا سبب تھی۔مگر بلا وجہ ہو یا با وجہ اس کا بیج بویا گیا تھا اور دین کی حقیقت سے ناواقف لوگوں میں سے ایک طبقہ ان کو غاصب کی حیثیت میں دیکھنے لگا تھا اور اس بات کا منتظر تھا کہ کب کوئی موقع ملے اور اُن لوگوں کو ایک طرف کر کے ہم حکومت و اموال حکومت پر تصرف کریں۔دوسری وجہ اس فساد کی یہ تھی کہ اسلام نے حریت فکر اور آزادی عمل اور مساوات افراد کے ایسے سامان پیدا کر دیئے تھے جو اس سے پہلے بڑے سے بڑے فلسفیانہ خیالات کے لوگوں کو بھی میسر نہ تھے۔اور جیسا کہ قاعدہ ہے کہ کچھ لوگ جو اپنے اندر مخفی طور پر بیماریوں کا مادہ رکھتے ہیں وہ اعلیٰ سے اعلیٰ غذا سے بھی بجائے فائدہ کے نقصان اٹھاتے ہیں۔اس حریت فکر اور آزادی عمل کے اصول سے کچھ لوگوں نے بجائے فائدہ کے نقصان اٹھایا اور اس کی حدود کو قائم نہ رکھ سکے۔اس مرض کی ابتداء تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہی ہوئی جب کہ ایک ناپاک روح نام کے مسلم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ پر آپ کی نسبت یہ الفاظ کہے کہ یا رسول اللہ! تقویٰ اللہ سے کام لیں کیونکہ آپ نے تقسیم مال میں انصاف سے کام نہیں لیا۔جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ ضِنْضِئِي هَذَا قَوْمٌ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ رَطْبًا لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّيْنِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ۔(بخاري كتاب المغازی باب بعث علی ابن ابی طالب و خالد ابن الوليد الى اليمن قبل حجۃ الوداع) یعنی اس شخص کی نسل سے ایک قوم نکلے گی جو قرآن کریم بہت پڑھیں گے لیکن وہ ان کے 15