اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 12
دوم: حکومت دنیاوی کو چونکہ نیابت عامہ کے طور پر اختیارات ملتے ہیں اس لئے عوام کی رائے کا احترام اس کے لئے ضروری ہے اور لازم ہے کہ وہ لوگ اس کے کاموں کے انصرام میں خاص دخل رکھتے ہوں جو عوام کے خیالات کے ترجمان ہوں۔مگر دینی سلسلہ میں معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے وہاں ایک مقررہ قانون کی پابندی سب اصول سے مقدم اصل ہوتا ہے اور اپنے خیالات کا دخل سوائے ایسی فروعات کے جن سے شریعت نے خود خاموشی اختیار کی ہو قطعاً ممنوع ہے۔دوم دینی سلسلوں کو اختیارات خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتے ہیں اور اس کی زمام انتظام جن لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہے ان کا فرض ہوتا ہے کہ امور دینیہ میں وہ لوگوں کو راستہ سے ادھر ادھر نہ ہونے دیں۔اور بجائے اس کے کہ وہ لوگوں کے خیالات کی ترجمانی کریں ان پر واجب ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے خیالات کو اس سانچہ میں ڈھالیں جو کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس زمانہ کی ضروریات کے مطابق تیار ہوا ہے۔خلافت اسلامیہ ایک مذہبی انتظام تھا غرض اسلام کی حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے یہ اعتراضات ان لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتے تھے۔وہ نہ سوچتے تھے کہ خلافت اسلامیہ کوئی دنیاوی حکومت نہ تھی نہ صحابہ عام امرائے دولت۔بلکہ خلافت اسلامیہ ایک مذہبی انتظام تھا اور قرآن کریم کے خاص احکام مندرجہ سورہ نور کے مطابق قائم کیا گیا تھا۔اور صحابہ وہ ارکان دین تھے کہ جن کی اتباع روحانی مدارج کے حصول کے لئے خدا تعالیٰ نے فرض کی تھی۔صحابہ نے اپنے کاروبار کو ترک کر کے، ہر قسم کی مسکنت اور غربت کو اختیار کر کے، اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈال کر، 12