اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 11

خلافت کے لئے خفیہ منصوبے کرتے جہاں تک میں نے غور کیا اور مطالعہ کیا ہے اس فتنہ ہائلہ کی چار وجوہ ہیں۔فتنے کی چار وجوہ اوّل : عموماً انسانوں کی طبیعت حصول جاہ و مال کی طرف مائل رہتی ہے سوائے ان لوگوں کے جن کے دلوں کو خدائے تعالیٰ نے خاص طور پر صاف کیا ہو۔صحابہ کی عزت ان کے مرتبہ اور ان کی ترقی اور حکومت کو دیکھ کر نو مسلموں میں سے بعض لوگ جو کامل الایمان نہ تھے حسد کرنے لگے۔اور جیسا کہ قدیم سے سنت چلی آئی ہے اس بات کی امید کرنے لگے کہ یہ لوگ حکومت کے کاموں سے دست بردار ہوکر سب کام ہمارے ہاتھوں میں دے دیں اور کچھ اور لوگوں کو بھی اپنا جو ہر دکھانے کا موقع دیں۔ان لوگوں کو یہ بھی بُرا معلوم ہوتا تھا کہ علاوہ اس کے کہ حکومت صحابہ کے قبضہ میں تھی اموال میں بھی ان کو خاص طور پر حصہ ماتا تھا۔پس یہ لوگ اندر ہی اندر جلتے رہتے تھے اور کسی ایسے تغیر کے منتظر تھے جس سے یہ انتظام درہم برہم ہو کر حکومت ان لوگوں کے ہاتھوں میں آجائے۔اور یہ بھی اپنے جوہر لیاقت دکھاویں اور دنیاوی وجاہت اور اموال حاصل کریں۔دنیاوی حکومتوں میں ایسے خیالات ایک حد تک قابل معافی ہو سکتے ہیں بلکہ بعض اوقات معقول بھی کہلا سکتے ہیں۔کیونکہ اول دنیاوی حکومتوں کی بنیاد کلی طور پر ظاہری اسباب پر ہوتی ہے اور ظاہری اسباب ترقی میں سے ایک بہت بڑا سبب نئے خیالات اور نئی روح کا قالب حکومت میں داخل کرنا بھی ہے۔جو اسی صورت میں ممکن ہے کہ پہلے کام کرنے والے خود بخود کام سے علیحدگی اختیار کر کے دوسروں کے لئے جگہ چھوڑ دیں۔11