اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 109

تھے۔حتی کہ ان میں چہ میگوئیاں ہونے لگی تھیں کہ اب اس شخص کے قتل کے سوا کوئی چارہ نہیں۔اور اگر اسے ہم نے قتل نہ کیا تو مسلمانوں کے ہاتھوں سے ہمارے قتل میں کوئی شبہ نہیں۔اس گھبراہٹ کو اس خبر نے اور بھی دو بالا کر دیا کہ شام اور کوفہ اور بصرہ میں بھی حضرت عثمان کے خطوط پہنچ گئے ہیں اور وہاں کے لوگ جو پہلے سے ہی حضرت عثمان کے احکام کے منتظر تھے ان خطوط کے پہنچنے پر اور بھی جوش سے بھر گئے ہیں اور صحابہ نے اپنی ذمہ داری کو محسوس کر کے مسجدوں اور مجلسوں میں تمام مسلمانوں کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلا کر ان مفسدوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دے دیا۔اور وہ کہتے ہیں جس نے آج جہاد نہ کیا اس نے گویا کچھ بھی نہ کیا۔کوفہ میں عقبہ بن عمر و، عبد اللہ بن ابی اوفی اور حنظلہ بن ربیع التمیمی اور دیگر صحابہ کرام نے لوگوں کو اہل مدینہ کی مدد کے لئے ابھارا ہے تو بصرہ میں عمران بن حصین، انس بن مالک، ہشام بن عامر اور دیگر صحابہ نے۔شام میں اگر عبادہ بن صامت، ابو امامہ الے اور دیگر صحابہ نے حضرت عثمان کی آواز پر لبیک کہنے پر لوگوں کو اُکسایا ہے تو مصر میں خارجہ و دیگر لوگوں نے۔اور سب ملکوں سے فوجیں اکٹھی ہو کر مدینہ کی طرف بڑھی چلی آتی ہیں۔(طبری جلد صفحه ۱۹۶۰ مطبوعہ بیروت) حضرت عثمان کے گھر پر مفسدوں کا حملہ غرض ان خبروں سے باغیوں کی گھبراہٹ اور بھی بڑھ گئی آخر حضرت عثمان کے گھر پر حملہ کر کے بزور اندر داخل ہونا چاہا صحابہؓ نے مقابلہ کیا اور آپس میں سخت جنگ ہوئی گو صحابہ کم تھے مگر ان کی ایمانی غیرت ان کی کم کی تعداد کو پورا کر رہی تھی۔جس جگہ لڑائی ہوئی یعنی حضرت عثمان کے گھر کے سامنے وہاں جگہ بھی تنگ تھی۔اس لئے بھی مفسدا اپنی کثرت 109