اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 110

سے زیادہ فائدہ نہ اٹھا سکے۔حضرت عثمان کو جب اس لڑائی کا علم ہوا تو آپ نے صحابہؓ کو لڑنے سے منع کیا۔مگر وہ اس وقت حضرت عثمان کو اکیلا چھوڑ دینا ایمانداری کے خلاف اور اطاعت کے حکم کے متضاد خیال کرتے تھے اور باوجود حضرت عثمان کو اللہ کی قسم دینے کے انہوں نے کوٹنے سے انکار کر دیا۔حضرت عثمان کا صحابہ کو وصیت کرنا آخر حضرت عثمان نے ڈھال ہاتھ میں پکڑی اور باہر تشریف لے آئے اور صحابہ کو اپنے مکان کے اندر لے گئے اور دروازے بند کرا دیئے اور آپ نے سب صحابہ اور ان کے مددگاروں کو وصیت کی کہ خدا تعالیٰ نے آپ لوگوں کو دنیا اس لئے نہیں دی کہ تم اس کی طرف جھک جاؤ۔بلکہ اس لئے دی ہے کہ تم اس کے ذریعہ سے آخرت کے سامان جمع کرو۔یہ دنیا تو فنا ہو جاوے گی اور آخرت ہی باقی رہے گی۔پس چاہئے کہ فانی چیز تم کو غافل نہ کرے۔باقی رہنے والی چیز کو فانی ہو جانے والی چیز پر مقدم کرو اور خدا تعالیٰ کی ملاقات کو یا درکھو اور جماعت کو پراگندہ نہ ہونے دو۔اور اس نعمت الہی کو مت بھولو کہ تم ہلاکت کے گڑھے میں گرنے والے تھے اور خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے تم کو نجات دے کر بھائی بھائی بنا دیا اور اس کے بعد آپ نے سب کو رخصت کیا۔اور کہا کہ خدا تعالیٰ تمہارا حافظ و ناصر ہو۔تم سب اب گھر سے باہر جاؤ اور ان صحابہ کو بھی بلو اؤ جن کو مجھ تک آنے نہیں دیا تھا۔خصوصاً حضرت علی، حضرت طلحہ ، حضرت زبیر کو۔یہ لوگ باہر آئے اور دوسرے صحابہ کو بھی بلوایا گیا۔اس وقت کچھ ایسی کیفیت پیدا ہو رہی تھی اور ایسی افسردگی چھا رہی تھی کہ باغی بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہے۔اور 110