اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 108
کی کوشش کرنا چاہتے ہیں ان کو بھی آپ روکتے ہیں کہ جاؤ اپنی جانوں کو خطرہ میں نہ ڈالوان لوگوں کو صرف مجھ سے عداوت ہے تم سے کوئی تعرض نہیں۔آپ کی آنکھ اس وقت کو دیکھ رہی تھی جب کہ اسلام ان مفسدوں کے ہاتھوں سے ایک بہت بڑے خطرہ میں ہوگا۔اور صرف ظاہری اتحاد ہی نہیں بلکہ روحانی انتظام بھی پراگندہ ہونے کے قریب ہو جاوے گا۔اور آپ جانتے تھے کہ اس وقت اسلام کی حفاظت اور اس کے قیام کے لئے ایک ایک صحابی" کی ضرورت ہو گی پس آپ نہیں چاہتے تھے کہ آپ کی جان بچانے کی بے فائدہ کوشش میں صحابہ کی جانیں جاویں اور سب کو یہی نصیحت کرتے تھے کہ ان لوگوں سے تعرض نہ کرو اور چاہتے تھے کہ جہاں تک ہو سکے آئندہ فتنوں کو دور کرنے کے لئے وہ جماعت محفوظ رہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی ہے۔مگر باوجود آپ کے سمجھانے کے جن صحابہ کو آپ کے گھر تک پہنچنے کا موقع مل جاتا وہ اپنے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرتے اور آئندہ کے خطرات پر موجودہ خطرہ کو مقدم رکھتے اور اگر ان کی جانیں اس عرصہ میں محفوظ تھیں تو صرف اس لئے کہ ان لوگوں کو جلدی کی کوئی ضرورت نہ معلوم ہوتی تھی اور بہانہ کی تلاش تھی۔لیکن وہ وقت بھی آخر آگیا جب کہ زیادہ انتظار کرنا ناممکن ہو گیا۔کیونکہ حضرت عثمان کا وہ دل کے ہلا دینے والا پیغام جو آپ نے حج پر جمع ہونے والے مسلمانوں کو بھیجا تھا حتجاج کے مجمع میں سنا دیا گیا تھا اور وادی مکہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک اس کی آواز سے گونج رہی تھی اور حج پر جمع ہونے والے مسلمانوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ حج کے بعد جہاد کے ثواب سے بھی محروم نہ رہیں گے اور مصری مفسدوں اور ان کے ساتھیوں کا قلع قمع کر کے چھوڑیں گے۔مفسدوں کے جاسوسوں نے انہیں اس ارادہ کی اطلاع دے دی تھی اور اب ان کے کیمپ میں سخت گھبراہٹ کے آثار 108