اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 82 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 82

82 اولیٰ کے دور کے واقعات اپنے عروج پر پہنچے ہوئے ہیں اور اسلام پر چوطرفہ حملوں کا دور دورہ ہے تو مسلمانوں کو تقویٰ اور صبر کو انتہاء درجہ تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔لیکن دیکھا یہ جاتا ہے جب بھی کوئی دلآزاری کی بات کرتا ہے تو علماء قرآن کریم کی تعلیم کے برخلاف لوگوں کو اشتعال دلا کر بازاروں اور گلی کوچوں میں نکال دیتے ہیں جہاں مخالفوں اور حکومتوں کی طرف سے معصوم مسلمانوں کا ہی خون بہایا جاتا ہے۔اس طرح کشت وخون اور لوٹ مار کا بازار گرم کر کے حالات بگاڑے جاتے ہیں جس سے مسلمان ہی اپنے مخالفوں کے ہاتھوں نقصان اٹھاتے ہیں۔اس کی کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔سلمان رشدی نے جب دل آزاری سے بھری کتاب شائع کی اس کے نتیجہ میں دنیا کے کئی ممالک میں احتجاج کئے گئے اس کے نتیجہ میں کئی مسلمانوں کو ہی اپنی جانیں قربان کرنی پڑیں۔اگر مسلمان قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق صبر اور تقویٰ سے کام لیتے تو مالی اور جانی نقصان سے محفوظ رہ سکتے تھے۔یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اسلام کے مخالفوں کی طرف سے جب کوئی دل آزاری کی باتیں کی جاتی ہیں یا مضامین اور کتابیں لکھی جاتی ہیں تو فوری طور پر ایسےلوگوں کے خلاف قتل کے فتوے جاری کر دئے جاتے ہیں اور ان کی کتابوں پر پابندی لگانے کی باتیں کی جاتی ہیں۔دیکھا جائے تو یہ باتیں اسلام کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہیں کہ بیان کی جانے والی باتوں کا مسلمانوں کے پاس کوئی جواب نہیں اس لئے ان کتابوں پر پابندی کی آواز بلند کی جارہی ہے۔جبکہ ہونا یہ چاہئے کہ مسلمان مخالفین کی ایسی باتوں کا جواب دیں۔اگر کوئی زبانی یا تحریری دل آزاری کی بات کرتا ہے اسے حکمت کے ساتھ مدلل جواب دیا جائے۔اور قرآن کریم ہی تعلیم دیتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے۔وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَبِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (العنکبوت آیت ۴۷)