اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 83
83 یعنی تم اہل کتاب کے ساتھ اس طریق سے مجادلہ کرو جو احسن طریق ہے اسی طرح ایک اور مقام پر بھی اللہ تعالی نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم لوگوں کو اللہ کی طرف اور صحیح راستہ کی طرف حکمت اور اور ناصحانہ طریق سے بلائیں۔اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم جاہلانہ باتوں کا جواب جاہلانہ طریق سے دیں بلکہ یہ حکم دیتا ہے کہ جاہلانہ باتوں کوسن کر بھی ان کا حلم اور نرمی سے دیں اور اگر کسی سے ایسا ممکن نہیں تو پھر سلام کہتے ہوئے وہاں سے الگ ہو جائیں یہی اسلام ہے۔اسی سے متعلق حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام کی طرف سے ایک میموریل جو اشتہار کی صورت میں شائع ہوا راہنما اصول پر مبنی ہے جو ذیل میں جواب درج کیا جاتا ہے۔" بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔نَحْمُدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيم میموریل بحضور نواب لفٹینینٹ گورنر صاحب بہادر بالقابه یہ میمویل اس غرض سے بھیجا جاتا ہے کہ ایک کتاب امہات المومنین نام ڈاکٹر احمد شاہ صاحب عیسائی کی طرف سے مطبع آرپی مشن پریس گوجرانوالہ سے چھپ کر ماہ اپریل ۱۸۹۸ء میں شائع ہوئی تھی اور مصنف نے ٹائیٹل پیج کتاب پر لکھا ہے کہ یہ کتاب ابوسعید محمد حسین بٹالوی کی تحری اور ہزار روپیہ کے انعام کے وعدہ کے معاوضہ میں شائع کی گئی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ محترک اس کتاب کی تالیف کا محمد حسین مذکور ہے چونکہ اس کتاب میں ہمارے نبی کریم علمی کی نسبت سخت الفاظ استعمال کئے ہیں جن کو کوئی مسلمان سن کر رنج سے رک