اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 64
64 تو اُن کے لئے استغفار کر یا نہ کر ان کے لئے برابر ہے۔اگر تو ان کے لئے ستر بار بھی استغفار کریگا تو اللہ ان کو کبھی معاف نہیں کریگا۔رسول کریم عالم نے فرمایا کہ اگر مجھے علم ہو جائے کہ ان کے لئے ستر مرتبہ سے زیادہ مغفرت مانگنے سے اس کی مغفرت ہو جائے گی تو میں وہ بھی کرتا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ رحمةٌ لِلعالمین کے جذبہ رحمت کی تاب نہ لا سکے اور پیچھے ہٹ گئے۔جنازہ کے بعد اسے قبر میں اتارا گیا تو آپ نے اسے واپس نکالنے کا حکم دیا۔نکلوانے کے بعد آپ نے اس کا سر اپنی گود میں رکھا اور اپنا لعاب دہن اس کے منہ پر انڈیلااور اسے قبر میں اتارنے کا حکم دیا۔تدفین کے بعد آپ واپس لوٹے تو اللہ تعالی نے حکم دیا وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ (التو به آیت 84) اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو عبد اللہ بن ابی بن سلول کا جنازہ پڑھانے سے قبل ہی رسول کریم ام پر مذکورہ آیات نازل فرما سکتا تھا اور نماز جنازہ ادا کرنے سے روک سکتا تھا۔مگر ایسا نہیں کیا غالباً اس میں حکمت یہ تھی اللہ تعالی اپنوں اور بیگانوں کو یہ سمجھانا چاہتا تھا کہ اے دنیا والو دیکھو جسے میں نے رحمةٌ لِلعالمین بنایا ہے اور اعلی اخلاق سے ممیز کیا ہے، اس کی رحمت اور اعلی اخلاق کا اندازہ لگاؤ کہ اشد ترین گستاخ بھی اس کی رحمت سے محروم نہیں رہا۔اگر عبد اللہ بن ابی سلول کے جنازہ ادا کرنے سے قبل یہ حکم نازل ہو جا تا تو سیدنامحمد مصطفے علم کی رحمت اور اعلی اخلاق کا عظیم جلوہ دنیا کے سامنے نہ آتا۔اسی طرح ایک مرتبہ نبی کریم علی انصاری سردار حضرت سعد بن عبادہ کے عیادت کے لئے تشریف لے گئے۔راستہ میں یہود مشرکین اور مسلمانوں کی ایک مجلس میں یہی منافقوں کا سردار عبداللہ بن ابی سلول بھی موجود تھا۔رسول اللہ کی سواری کے آنے سے گرد اٹھی تو اس نے