اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 63
63 سیدنا حضرت محمد مصطفے صلیم نے اس موقعہ پر اسے تسلی دی اور فرمایا ہمارا ارادہ اُسے قتل کرنے کا ہر گز نہیں بلکہ ہم تمہارے والد کے ساتھ نرمی اور احسان کا معاملہ کریں گے۔مگر اللہ تعالی نے عبد اللہ بن ابی سلول کو گستاخی کی سزا خود ا سکے بیٹے کے ذریعہ دلوادی وہ اس طرح کہ جب لشکر اسلامی مدینہ کی طرف لوٹا تو عبد اللہ اپنے باپ کا راستہ روک کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا خدا کی قسم میں تمہیں مدینہ میں داخل نہیں ہونے دوں گا جب تک تم اپنے منہ سے یہ اقرار نہ کرو کہ رسول الله صلى لم معزز ہیں اور تم ذلیل ہو۔آخر عبد اللہ ابن ابی سلول نے مجبور ہو کر یہ اقرار کیا کہ سیدنا محمد مصطف علی ہی معزز و مکرم ہیں اور میں ذلیل ہوں۔اس واقعہ سے واضح ہے کہ اللہ تعالی نے گستاخ رسول کی گستاخی کی سزا خود ہی اس کے اپنے بیٹے کے ذریعہ دلوادی۔عبداللہ ابن ابی سلول جب مرض الموت میں مبتلا تھا رسول کریم اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے۔عبد اللہ بن ابی سلول نے آنحضرت علی سے کہا کہ مجھے اپنی قمیص عطا فرمائیں جو آپ نے پہن رکھی ہے اور اسی میں میری تکلمین فرمائیں میری نماز جنازہ پڑھائیں اور میرے لئے دعائے مغفرت بھی کریں۔ماہ ذی قعدہ 2 ھجری یعنی 631 عیسوی کو عبداللہ بن ابی سلول کی وفات ہو گئی۔جب رسول کریم اُس کی نماز جنازہ پڑھانے کے لئے تشریف لائے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو روک کر اس کی ساری گستاخیوں کا ذکر کر کے عرض کیا کہ کیا آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں گے جو رئیس المنافقین ہے کیا ایسے لوگوں کے لئے دعائے مغفرت کرنے سے اللہ تعالی نے منع نہیں فرمایا ہے رسول کریم ملایم نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالی نے اختیار دیا ہے کہ استغْفِرْ لَهُمْ أَوْلَا تَسْتَغْفِرُ لَهُمْ ، (التو به آیت 80)