اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 65 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 65

65 رض مینہ ڈھانپ لیا اور رسول اللہ کو برابھلا کہنے لگا۔نبی کریم جب سعد بن عبادہ کے گھر پہنچے اور ان سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو انہوں نے عبداللہ بن ابی سلول سے درگذر کرنے کی درخواست کی۔اور رسول کریم ملایم نے اسے معاف کر دیا۔( بخاری کتاب الاستیذان باب ۲) دوسری روایت میں ہے کہ رسول کریم عالی می کنیم سردار منافقین عبد اللہ بن ابی بن سلول کے پاس سے گزرے وہ ٹیلوں کے سایہ میں بیٹھا ہوا تھا، ناک بھوں چڑھا کر حقارت سے نبی کریم عالم کو ابن ابی کبشہ کے نام سے پکار کر کہنے لگا کہ اس نے اپنی ساری عبار ہم پر ڈالی ہے۔اس کے بیٹے عبداللہ نے جو ایک مخلص صحابی اور عاشق رسول تھے عرض کیا یا رسول اللہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت عطا فرمائی ہے۔اگر آپ ارشاد فرمائیں تو میں اس کا سر قلم کر کے لهش آؤں۔نبی کریم علیم نے فرمایا نہیں وہ تمہارا باپ ہے اس سے نیکی اور احسان کا سلوک کرو۔( مجمع الزوائدا سیستمی جلد ۳ صفحه ۳۱۸) ایک اندازے کے مطابق آنحضرت علی پر قرآن مجید کا نزول 24 رمضان بمطابق 20 اگست 610 کو ہوا اور آپ نے مکہ والوں کے مظالم سے تنگ آکر مورخہ 28 صفر 1 ھجری بمطابق 622 کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔کم و پیش بارہ تیرہ سال آنحضرت علی نے کفار مکہ کی گستاخیوں اور زیادتیوں کو بڑے صبر و تحمل سے برداشت کیا۔ان سے انتہائی گھٹیا اور تہذیب سے گرے ہوئے الفاظ سنے کسی نے کہا : إِنَّكَ لَمَجْنُون(الحجر آیت۔7) اے محمد یقین تو ایک دیوانہ ہے۔اور کسی نے کہا وَقَالَ الكَفِرُونَ هَذَا سُحِرٌ كَذَّابٌ ( سورة ص آیت ( ) محمد ال کی تو ایک ساحر اور جھوٹا ہے۔کسی نے یہ کہا کہ محمدعلی ملایم تواتر ہیں اور کسی نے مقطوع النسل کہا آپ انتہائی تکلیف دہ