اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 392
392 میں بھی اسلام کی سچی تعلیم نہیں کہلا سکتی۔یہ ایک ایسا دائمی ، بنیادی قطعی اصول ہے جس میں آپ کوئی تبدیلی نہیں دیکھیں گے۔اسلام کی جو تصویر ان لوگوں نے پیش کی ہے وہ نہ صرف یہ کہ بھیا نک ہے بلکہ ان کا عمل اس تصویر کو خود جھٹلا رہا ہے۔اسلام کے نام پر جبر اور ظلم اور زبردستی اور کسی گستاخی کی خواہ وہ کیسی ہی کیوں نہ ہو انسانی سزا کا کوئی تصور پیش نہیں کیا گیا۔لیکن ان مفتیوں نے اور آج بھی جو آج کے مفتیوں کی لگا میں تھامے ہوئے ہیں انہوں نے کھلم کھلا یہ فتوے دئے ہیں کہ کفر کی سزا قتل ہے۔اس کے سوا اور کوئی سزا نہیں اور جہاں جہاں گستاخی کے حوالے سے قتل کے فتوے دئے ہیں وہاں یہ استنباط قائم کیا ہے کہ چونکہ گستاخی رسول کرنے والا کافر ہوجاتا ہے اور کفر کی سز اقتل کے سوا کچھ نہیں اس لئے لازماً ایسے شخص کو قتل کیا جائے گا۔“ الفضل انٹر نیشنل 19 گست 1994ء) آپ نے اس خطاب میں ملاؤں کے اس سلسلہ میں نظریات کو پیش کرتے ہوئے یہ بات بھی بیان فرمائی کہ تمام علماء اسلام اس مسئلہ پر متفق نہیں ہیں بلکہ اختلاف رکھتے ہیں ( جیسا کہ اس کتاب میں بھی اس بات کو ثابت کیا گیا ہے )