اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 391
391 اشارہ فرمایا کہ دراصل یہ قانون احمدیوں کو اس دائرہ میں لا کر انہیں سزا دینے کے لئے بنایا گیا ہے۔( اور پھر بعد کے حالات نے یہ بات ثابت بھی کر دی۔) اس بات میں کوئی شک نہیں کہ انگریز حکومت کے دور میں عیسائیوں اور آریوں نے اسلام اور بانٹی اسلام پر جو گستاخانہ حملے کئے وہ نا قابل برداشت تھے جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود سے حکومت سے یہ درخواست کی تھی کہ وہ ایسے حملے کرنے والوں کے خلاف کوئی قانون بنائے جس میں ایسے لوگوں کے لئے کوئی سزا بھی مقرر ہو لیکن اسلام کے نام پر پاکستان میں جو قتل کی سزا مقرر کی گئی ہے یہ اسلامی تعلیم کے بالکل خلاف ہے۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دور میں کی جانے والی گستاخیوں کا بھی ذکر فرمایا جو مسٹر ڈوئی نے کیں جو پنڈت لیکھرام نے کیں اور پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں سے ان کو کس طرح پکڑا یہ سب کے سامنے ہے۔اسی طرح 29 جولائی 1994ء کو حضور نے جلسہ سالانہ یو کے کے اختتامی اجلاس میں جو خطاب فرمایا اس میں آپ نے فرمایا۔”بہت سے ظالموں نے قرآن کریم کی حقیقی تعلیم سے منہ پھیر کر ازمنہ وسطی کے بعض فقہاء اور بعض حدیثیں جمع کرنے والوں کی ایسی حدیثوں پر بنا کرتے ہوئے جن کی کوئی اصل نہیں ہے اور جو قرآن کریم کے مضمون سے واضح طور پر ٹکرانے والی ہیں۔ایسے مفتی پیدا ہوئے جن مفتیوں نے اپنی عقل و فہم کے مطابق بظاہر اسلام کی خدمت کی مگر ایسا بھیا نک تصور اسلام کا پیش کیا کہ اس تصور کی رو سے اسلام دنیا پر فتح یاب نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ تصویر انسانی فطرت کے خلاف ہے اور قرآن کا دعویٰ ہے کہ قرآنی تعلیمات فطرت کے مطابق ہیں۔فطرت پر انسان کو پیدا کیا گیا ہے اور فطرت ہی کی تعلیم ہے جو اسلام نے دی ہے۔پس ہروہ تعلیم جس سے فطرت مناسبت نہیں رکھتی۔ہر وہ تعلیم جو اسلام کی سچی فطرت کے معاند اور مخالف ہے وہ کسی صورت