اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 390
390 حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے دور خلافت میں ناموس رسالت پر حملوں کا دفاع پاکستان میں جب تو ہین رسالت کا قانون پاس ہوا جو کہ عشق محمد مصلے بلی کے نام پر کیا گیا تھا اس وقت حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے 18 جولائی 1886ء کو ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ نے اس قانون کے بارے میں عوام الناس کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ قرآن کریم کی رو سے اس قانون کی کیا حیثیت ہے اور اس کے پس پردہ کون سے عوامل کار فرما ہیں اس خطبہ میں آپ نے حکومت کو یہ سمجھانے کی بھی کوشش کی کہ اگر اس قسم کا قانون بنانا ہی ہے تو تمام مذاہب کے رہنماؤں کی عزت کا قانون پہلے پاس ہونا چاہئے۔اور ساتھ ہی آپ نے یہ بھی بات بیان فرمائی کی اسی غرض سے جماعت احمد یہ پیشوایان مذاہب کے جلسوں کا انعقاد کرتی ہے اور تاہر کوئی ایک دوسرے کے پیشواؤں کی عزت کرنا سیکھے۔نیز قرآن کریم کے حوالہ سے یہ بات بھی سمجھائی کہ ہتک رسول کا مضمون اللہ تعالیٰ کی بہتک سے شروع ہوتا ہے۔اور قرآن کریم کسی بھی نبی سے کی گئی گستاخی کی سزا کا حق اس دنیا میں کسی کو نہیں دیتا بلکہ گستاخی کرنے والے کو سزا دینے کا حق اللہ تعالیٰ نے اپنے اختیار میں رکھا ہوا ہے۔اس کے ساتھ ہی آپ نے آنحضرت علی علیم کے زمانہ میں ہی آپ کے ساتھ کی گئی گستاخیوں کا ذکر فرمایا جس کا قرآن کریم اور احادیث میں ذکر گزرا ہے۔اور ان کے ساتھ ہمارے پیارے آقا نے کیا سلوک کیا اسے بھی بیان فرمایا۔اس کے ساتھ آپ نے قوم کو یہ بات بھی سمجھائی کہ اگر آپ لوگ ایسی گستاخیاں کرنے والوں کو ازخود سزائیں دو گے تو اس کے نتیجہ میں دنیا کا امن اٹھ جائے گا۔اور اس طرف بھی