اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 368 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 368

368 لٹریچر شائع کیا جائے اور وا کو اندرونِ ملک اور بیرون ملک بھیجا جائے۔اس غرض کے لئے مولوی محمد حسین بٹالوی کی تجویز پر ایک انجمن اشاعت اسلام کے نام سے قائم کی گئی۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اس میں شمولیت اختیار کی اور ایک رقم اس غرض کے لئے مختص کر دی۔اگر چہ یا انجمن قائم نہ رہ سکی۔اس بات کی ضرورت تو تھی کہ اسلام پر ہونے والوں حملوں کے جواب کے لئے کوئی نہ کوئی انجمن ضرور قائم ہونی چائے۔اسی غرض کے پیش نظر ایک اور انجمن لاہور میں قائم ہوئی جس کا انجمن حمایت اسلام“ نام رکھا گیا۔حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس انجمن کی بھی بھر پور مالی اور علمی مددفرمائی اعانت مالی کے ساتھ ساتھ مضامین بھی لکھے۔اور اس کا صرف مقصد یہی تھا کہ کوئی دشمن اسلام، بانی اسلام آنحضرت علی کے خلاف ہرزہ سرائی نہ کرے۔اور اسلام کی صحیح اور حقیقی تصویر بھی دنیا والوں کے سامنے پیش ہو سکے۔چنانچہ مولوی حسن علی صاحب مونگھیر ہی جن کا اسلام کے مشہور مبلغین میں شمار ہوتا ہے انہوں نے 1893ء کے جلسہ انجمن حمایت اسلام میں حضور کی شمولیت پر اور آپ کی تقریر کو سراہتے ہوئے ذکر کیا کہ مجھ کو فخر ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے اتنے بڑے عالم اور مفسر کو دیکھا اور اہل اسلام کو جائے فخر ہے کہ ہمارے درمیان اس زمانہ میں ایک ایسا عالم موجود ہے۔تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 137) عیسائیت کی جواب میں فصل الخطاب“ کی تصنیف سن 1886ء کی بات ہے کہ ایک حافظ قرآن عیسائیت سے متأثر ہو کر اسلام کو خیر آباد کہنے کے لئے تیار ہو گئے۔اس بات کا علم جب آپ کو ہوا تو آپ کا دل تڑپ گیا اور فوری حافظ صاحب سے رابطہ کیا اور اسے بپتسمہ لینے سے روک دیا اور ان سے کہا کہ وہ اس پادری صاحب سے ان کی بات کروائیں جنہوں نے انہیں متاثر کیا ہے چنانچہ حافظ صاحب نے آپ "