اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 369
369 کی ملاقات پادری تھامس ٹاول سے کروائی جو کہ ایک انگریز تھا۔آپ اس پادری کے سامنے شیر خدا بن کر کھڑے ہو گئے اور اسے کہا کہ اس نے اسلام پر جو بھی اعتراض کرنا ہے کرے میں اس کا جواب دونگا۔اسپر اس پادری نے آپ سے لکھ کر سوال کئے جس کا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لکھ کر ہی جواب دیا جو چار جلدوں پر مشتمل تھا۔آپ کا دیا ہوا یہی جواب بعد میں فصل الخطاب“ کے نام سے شائع ہوا۔جب حافظ صاحب نے ان جوابات کو پڑھا تو عیسائیت کی ساری کلی ان پر کھل گئی اس پر وہ اور ان کے بہت سے ساتھی ارتداد سے بچ گئے اور بچے دل سے مسلمان ہو گئے۔اس کتاب میں خاص طور پر اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔اسی کتاب میں آپ ایک جگہ فرماتے ہیں۔آنحضرت علی کو دشمنوں اسلام اور مخالفوں نے اکثر یہ طعن کیا ہے کہ آنحضرت اللہ کادین بزور شمشیر شائع ہوا ہے اور تلوار ہی کے زور سے قائم رہا۔جن مؤرخین عیسائیوں نے آنحضرت علی ایم کا تذکرہ یعنی لائف لکھی ہے آ ملی تعلیم پر طعن کرنا انہوں نے اپنا شعار کرلیا ہے اور ان کے طعن کی وجہ فقط یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپ نے اپنے تئیں اور اپنے رفقاء کو حملوں سے بچایا۔۔۔قوانین اسلام کے موافق ہر قسم کی آزادی مذہبی اور مذہب والوں کو بخشی گئی جو سلطنت اسلام کے مطیع ومحکوم تھے۔لا اكراة في الدين ( البقرہ 257) دین میں کوئی جبر نہیں یہ آیت کھلی دلیل اس امر کی ہے کہ اسلام میں اور اہل مذاہب کو آزادی بخشنے اور ان کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم ہے۔“ (فصل الخطاب صفحہ 98-99)۔66 اسی کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے مولوی سید محمد علی صاحب کا نپوری نے لکھا۔اس عمدہ کتاب میں پر جوش تحریر کے ساتھ اکثر نئی تحقیق کا دریا موجزن ہے۔اسلام کی خوبی کو مختصر طور پر خوب دکھایا گیا ہے اور غالباً عیسائیوں کے کل اعتراضوں کے جواب الزامی