اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 362
362 رکھتا۔وہ ایک لعنتی آدمی ہے، یہ مولوی اور ایک پلید حیوان ہے نہ انسان۔اور یادر ہے کہ ان میں سے بہت سی ایسی کتابیں ہیں جو میرے بلوغ کے ایام سے بھی پہلے کی ہیں اور کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ ان کتابوں کی تالیف کا یہ موجب تھا کہ میں یا کسی اور مسلمان نے حضرت مسیح علیہ السلام کو گالیاں دی تھیں جس سے مشتعل ہو کر پادری فنڈل اور صفدر علی اور پادری ٹھا کر داس اور عماد الدین اور پادری ریواری نے وہ کتابیں تالیف کیں کہ اگران کی گالیاں اور بے ادبیاں جمع کی جائیں تو اس سے سوجز کی کتاب بن سکتی ہے۔اور ایسا ہی کوئی اس بات کا ثبوت نہیں دے سکتا کہ جس قدر گالیاں اور بے ادبیاں پنڈت دیا نند نے اپنی کتاب ستیارتھ پر کاش میں ہمارے سید و مولی نبی میلی لیلی کو دیں اور دین اسلام کی تو ہین کی۔یہ کسی ایک اشتعال کی وجہ سے تھیں جو ہماری طرف سے ہوا تھا۔ایسا ہی آریوں میں سے لیکھرام وغیرہ جواب تک گندی کتابیں چھاپ رہے ہیں۔اصل موجب اس کا ہر گز یہ نہیں ہے کہ ہم نے وید کے رشیوں کو گالیاں دی تھیں بلکہ اگر ہم نے کچھ وید کی نسبت براہین میں لکھا تو نہایت تہذیب سے لکھا اور اس وقت لکھا گیا کہ جب دیا نند اپنے ستیارتھ پر کاش میں اور کنہیا لعل الکھ دھاری لدھیانوی اپنی کتابوں میں اور اندر من مراد آبادی اپنی پلید تالیفوں میں ہزار ہا گالیاں آنحضرت علی کو دے چکے تھے اور ان کی کتابیں شائع ہو چکی تھیں اور بعض بد بخت اور آنکھوں کے اندھے مسلمان آریہ بن چکے تھے اور اسلام سے نہایت درجہ ٹھٹھا کیا گیا تھا اور پھر بھی ہم نے نہایت تہذیب کو ہاتھ سے نہ دیا۔گو ہمارا دل دکھایا گیا اور بہت ہی دکھایا گیا مگر ہم نے اپنی کتاب میں ہر گز ناراستی اور تختی کو اختیار نہ کیا اور جو واقعات در اصل صحیح اور محل پر چسپاں تھے وہی بیان کئے۔ہم بمقابل آریوں کی گالیوں کے ویدوں کے رشیوں کو کیونکر گالیاں دیتے۔۔۔اسلام کا طریق گالی دینا نہیں ہے مگر ہمارے مخالفوں نے ناحق بے وجہ اس قدر